مسئلہ: ابھی حاجیوں کے جانے کا وقت نہیںآیا اور حج کے سب شرائط موجود ہیں تو ابھی حج فرض نہیں ہوا۔ اگر اس وقت سے پہلے کسی کام میں روپیہ صر ف کردیا تو اس پر حج فرض نہیں لیکن اس نیت سے روپیہ صرف کرنا کہ حج کرنا نہ پڑے مکروہ ہے۔
مسئلہ: وقت کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کو متوسط او رمعتاد رفتار کے ساتھ حج کے وقت مکہ مکرمہ پہنچ سکے۔ اگر روزانہ یا بعض ایام ایک منزل سے زیادہ سفر کر ے تو پہنچ سکتاہے۔ او رحج مل سکتا ہے۔ اوراگر ایک منزل روز چلے تو نہیں ملے گا تو حج واجب نہ ہوگا۔
مسئلہ: وقت میں فرض نماز کے اوقات کابھی اعتبارہے۔ فرض کرو اگر کوئی شخص نماز ترک کردے تو پہنچ سکتاہے۔ اور اگر نماز فرض اپنے اپنے اوقات میں پڑھے تو نہیں پہنچ سکتا تو حج فر ض نہ ہوگا۔
مسئلہ: کوئی شخص (۱) نویں ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ نہ پہنچ سکا بلکہ نویں اور دسویں ذی الحجہ کی درمیانی رات میں پہنچا اوراتنا وقت تنگ ہے کہ اگر عشاء کی نماز پڑھے گا توروقوف عرفہ کا وقت نکل جائے گا اور عرفات تک نہیں پہنچ سکے گا تو ایسے شخص کو نماز عشاء قضا کرنی جائز ہے۔
شرائط وجوب اداء
وہ شرائط ہیں کہ حج کا وجوب تو ان کے پائے جانے پر موقوف نہیںلیکن ادا کرنا ان شرائط کے پائے جانے کے وقت واجب ہوتاہے۔ اگر شرائط وجوب اور شرائط وجوب ادا دونوں موجود ہوں تو پھر انسان کو خود خود حج کرنا فرض ہے۔ اوراگر شرائط وجوب تمام موجود ہوں لیکن شرائط وجوب ادا میں سے کوئی شرط ن پائی جاتی ہو تو پھر خود حج کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ ایسی صورت میں اپنی طرف سے کسی دوسرے شخص سے فی الحال حج کرانا یا بعدمیں حج کرانے کی وصیت کرنا وجب ہوتاہے۔ اس قسم کی پانچ شرطیں (۲)ہیں۔
۱۔ تندرست ہونا ۲۔قیدیا بادشاہ کی طرف سے ممانعت نہ ہونا ۳۔راستہ پر امن (۳)ہوتا۔ یہ تین شرائط تو عورت مرد سب کے لیے ہیں ۴۔عورت کے لیے محرم ہونا ۵۔ عورت کا عدت سے خالی ہونا۔ یہ آخر کی دو شرطیںعورتوں کے لیے زائد ہیں۔
مسئلہ اس میں علماء کا اختلاف (۴) ہے کہ جو شخص تندرست نہ ہو مریض ہویا اندھا یا مفلوج ہویا لنگڑا وغیرہ ہواور خود سفر نہ کرسکتا ہو اور سارے شرائط حج کے موجود ہوں تو اس پر حج فرض ہوتا ہے یا نہیں بعض کہتے ہیں کہ حج فرض ہو جاتا ہے اوربہت سے علماء نے اسکو صحیح کہا ہے اور اسی کو اختیار کیاہے کہ اس پر حج واجب ہے اور ان کے قول کے موافق ایسا شخص اگر حج نہ کرسکے تواس پر حج بدل کرانا یا اس کیوصیت کرنا واجب ہے اگر خود حج کرلے گا توحج ہوجائے گا اوربعضے علماء نے کہا ہے کہ ایسے شخص پر حج واجب نہیں نہ اس کو حج بدل کرانا اور صیت کرنی واجب ہے۔