زمزم: مسجد حرام میں بیت اللہ کے قریب ایک مشہور چشمہ ہے جوا ب کنوئیں کی شکل میں ہے۔ جس و حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اپنے بنی حضرت اسمعیل علیہ السلام اوران کی والدہ کے لیے جاری کیا تھا۔
سعی: صفا اور مروہ کے درمیان مخصوص طریق سے سات چکر لگانا۔
شوط: ایک چکر بیت اللہ کے چاروں طرف لگانا۔
صفا: بیت اللہ کے قریب جنوبی طرف ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے جس سے سعی شروع کی جاتی ہیں۔
ضب: ایک پہاڑی کانام ہے جو مسجد خیف سے ملی ہوئی ہے اور منیٰ میں ہے۔
طواف: بیت اللہ کے چاروں طرف سات :چکر مخصوص طریق سے لگانے۔ عمر: جل میقات احرام باندھ کر بیت الہ طواف اورصفا ومرہ کی سعی کرنا۔
عرفات یا عرفہ: مکہ مکرمہ سے تقریباً ۹ میل مشرق کی طرف ایک میدان ہے۔ جہاں پر حاجی لوگ نویں ذی الحجہ کو ٹھہرتے ہیں۔
قرآن: حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھ کر پہلے عمرہ کرنا پھر حج کرنا۔
قارن: قران کرنے والا۔
قرن: مکہ مکرمہ سے تقریباً ۴۲ میل پر ایک پہاڑ ہے نجدیمن اور نجد حجاز او رنجد تہامہ سے سے آنے والوں کی میقات ہے۔
قصر: بال کتروانا۔
محرم: احرام باندھے والا۔
مفرد: فقط حج کرنے والا۔
میقات: وہ مقام جہاں سے مکہ مکرمہ جانے والے کے لیے احرام باندھنا واجب ہے۔
مطاف: طواف کرنے کی جگہ جو بیت اللہ کے چاروں طرف ہے اوراس میں سنگ مر مر لگا ہواہے۔
مقام ابراہیم: جنتی پتھر ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس پر کھڑے ہو کر بیت اللہ کو بنایا تھا۔ مطاف کے مشرقی کنارے پر منبر اور زمزم کے درمیان اب ایک بلوری قبہ میں رکھدیا گیاہے۔
ملتزم: حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے درمیان کی دیوار جس پرلپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے۔
منیٰ: مکہ معظمہ سے تین میل مشرق کی طرف ایک گاؤں ہے جہاں پر قربانی اور رمی کی جاتی ہے یہ حرم میں داخل ہے۔
مسجد حیف: منی کی بڑی مسجد کانام ہے جو منیٰ کی شمالی جانب میں پہاڑ(۱) سے متصل ہے۔