ابراہیم صاحب ذادہ رسول کریم ﷺ سے شروع کرے اور بعض کہتے ہیں کہ اول حضرت عباس ؓ کی زیارت کرے کیونکہ ان کا مزار ابتداء میں ہے ان کے پاس سے بلا سلام گزر نا مناسب نہیں کیونکہ حضور ﷺ کے چچا ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؎۱۔اس قطعہ زمین میں دس ہزار سے زیادہ صحابہ کرام مدفون ہیں ۱۲ منہ
؎۲۔حضرت خدیجہ مکہ مکرمہ میں اور حضرت میمونہ مکہ مکرمہ کے قریب مقام سرف میں مدفون ہیں ۱۲ سعید احمد
؎۳۔شیخ المشائخ مولانا خلیل احمد کی قبر شریف بھی مزارات اہل بیت کے قریب ہے ۔
اس کے بعد جس کا مزار اول آئے اس پر سلام پڑھے اور حضرت صفیہ ؓ کے مزار پر ختم کرے اس میں زائرین کیلئے سہولت ہے اورملا علی قاری نے بھی لکھا ہے کہ تعظیم کے لحاظ سے بھی یہ صورت مناسب ہے حضرت مالک بن سنان اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کے والد مدینہ منورہ میں شہر کے اندر مدفون ہیں ان کی بھی زیارت کرے اورنفس زکیہ محمد بن عبد اللہ بن الحسن بن علی ؓ شہر کے قریب شامی دروازے کے قریب مدفون ہیں ان کی بھی زیارت کرے اور حضرت اسماعیل بن جعفر صادق کا مزار شہر پناہ کے اندر ہے ۔بقیع سے واپسی میں ان کی بھی زیارت کرے بقیع میں داخل ہو کر یہ پڑھے ۔
السلام علیکم دار قوم مومنین فانا ان شاء اللہ بکم لاحقون اللھم اغفر للاھل البقیع الغرقد اللھم اغفر لنا ولھم ۔
پھر اس کے بعد جن لوگوں کے نشانات معلوم ہیں ان کی زیارت کرے اور حضرت عثمان ؓ پر اس طرح سلام پڑھے ۔
السلام علیک یا امام المومنین السلام علیک یا ثالث الخلیفۃ الراشدین السلام علیک یا ذا النورین السلام علیک یا مھجز جیس العسرۃ بالنقد والعین السلام علیک یا صاحب الھجرتین السلام علیک یا جامع القرآن بین الدفتین السلام علیک یا صبورا علی الاقدار السلام علیک یاشھید الدار السلام علیک رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
زیارۃ شہداء احد
مدینہ منورہ سے شمال کی جانب تین میل کے قریب وہ مقدس پہاڑ ہے جس کے متعلق سردار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’احدجبل یحبنا ونحبہ‘‘کہ احد ہم کو محبوب رکھتا ہے اور ہم احد کو ، ۳ھ کا مشہور واقعہ جس کو غزوائے احد کہتے ہیں اسی جگہ ہوا تھا شہداء احد اور جبل احد اور اس کی مساجد کی زیارت پاک و صاف