بائیں جانب ۔
مسجد مر الظھران: مکہ مکرمہ سے ایک منزل پر ہے مکہ مکرمہ میں جانے والوں کیلئے راستے کے بائیں جانب پڑتی ہے اس کو مسجد فتح بھی کہتے ہیں ۔
مسجد سرف:وادی فاطمہ سے تین میل شمال کی طرف ہے یہاں پر ام المومنین حضرت میمونہ ؓکانکاح رسول اللہ ﷺ سے ہوا اور شب زفاف بھی یہیں ہوئی اور اسی جگہ انتقال فرما کر مدفون ہوئیں ۔مسجد تنعیم :یا مسجد عائشہ جہاں سے عام طور پر حج یا عمرہ کا احرام باندھتے ہیں مکہ مکرمہ سے تین میل کے فاصلے پر قریب شمال کی جانب واقع ہے ۔مسجد ذی طوی:چاہ طواہ کے قریب واقع ہے یہاں رسول اللہ ﷺ مکہ سے تشریف لاتے وقت قیام فرما یا تھا ۔
راستے کے کنواں
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے راستے میں مشہور کنویں یہ ہیں ۔۱۔بیر خلیص،۲۔بیر قضیمہ ،۳۔بیر شیخ،۴۔بیر غار ،
۵۔بیر روحاء،۶۔بیر حسانی،۷۔بیر الاشھب،۸۔بیر ماشی،۹۔بیر مستورہ۔
مدینہ منورہ کے قریب پہنچنا
جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچ جائے تو خوب خشوع اور خضوع اور زوق وشوق پیدا کرے اور سواری کو زرا تیز چلائے اور درود وسلام کثرت سے پڑھے ۔جب مدینہ منورہ پر نذر پڑے اور اس کے درخت نظر آنے لگے تو دعا مانگے اور درود پرھے اور بہتر یہ ہے کہ سواری سے اتر جائے اور ننگے پائوں روتا ہوا چلے اور جس طرح ادب وتعظیم ممکن ہو کرے اور حق تو یہ ہے کہ اگر وہاں سر کے بل بھی چلے تو تو حق ادا نہیں ہو سکتا ہے اس میں کوتاہی نہ کرے ۔
مسئلہ:جب فصیل مدینہ منورہ آجائے تو درورد کے بعد یہ دعا پڑھے ۔
اللھم ھذا حرم نبیک فاجعلہ لی وقایۃ من النار وامانا من العذاب وسوء الحساب ۔
ترجمہ:اے اللہ یہ آپ کے نبی کا حرم ہے اس کو میری جہنم کا خلاصی کا زریعہ بنا دے اور امن کا سبب بنا دے اور حساب سے بری کر دے ۔
اور شہر میں داخل ہونے سے پہلے اگر ہو سکے تو غسل کرے اور اگر داخل ہونے سے پہلے غسل نہ ہو سکے تو تو داخل ہونے کے بعد کرے اور اگر غسل نہ کر سکے تو وضو کرے مگر غسل افضل ہے پھر پاک صاف کپڑے پہنے نئے کپڑے افضل ہے خوشبو لگائے اور جب شہر کے دروازے پر داخل ہو تو یہ پڑھے ۔
بسم اللہ ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق وارزقنہ من زیارۃ رسولک ما رزقت اولیائک واھل طاعتک وانقذنی من النار واغفرلی وارحمنی یا خیر مسئول اللھم اجعل فیھا قراراو رزقا حسنا ۔
ترجمہ:اللہ کا نام لی کر داخل ہوتا ہوں جو اللہ تعالی نے چاہا وہ ہوگا بغیر اللہ کے حکم کے کچھ نہ ہوگا اے اللہ مجھ کو ایمان کی سلامتی کے ساتھ داخل فرما اورباہر کر