چاہئے اور ان سے مزاحمت نہ کرنی چاہئے اور عورتوں کو خود بھی احتیاط کرنی چاہئے مردوںکے ہجوم کے وقر ایسی ھگہ نہیں جانا چاہئے محض مستحب کے خاطر حرام کا ارتکاب اور وہ بھی دربارے خدا وندی میں بڑے شرم کی بات ہے ۔
(۱۲)بعضے آدمی رکن یمانی کو بھی طواف کے وقت بوسہ دیتے ہیں صحیح قول کی بناء پر اس کو صرف ہاتھ لگانا چاہئے بوسہ نہ دیا جائے ایسے ہی بیت اللہ کو حجراسود؎۱اور بیت اللہ کی دہلیز کے علاوہ اور کسی جگہ ہوسہ دینا بھی خلاف سنت ہے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بیت اللہ کی دیوار کو ان دونوں جگہ کے علاوہ بھی بوسہ دیتے ہیں اور علاوہ ملتزم کے اور جگہ بھی لپٹے ہیں ۔
سعی کی غلطیاں
(۱)سعی کرتے وقت صفا پر صرف اتنا چڑھنا ہے کہ دروازہ مسجد یعبی باب الصفا میں سے بیت اللہ نظر آنے لگے آج کل بیت اللہ پہلی یا دوسری سیڑھی پر سے نظر آنے لگتا ہے اس لئے اس سے زیادہ اور چڑھنا جیسے کہ بعض جاہل حج کرنے والے چڑھتے ہیں بعضے تو بلکل اوپر پہنچ جاتے ہیں یہ خلاف سنت ہے اور مروہ پر بھی زیادہ اوپر نہیں چڑھنا چاہئے صرف اتنا چڑھنا کافی ہے کہ اگر سامنے مکانات نہ ہوتے تو وہاں سے بیت اللہ نظر آنے لگتا آجکل چونکہ مروہ اور بیت اللہ کے درمیان مکانات بنے ہوئے ہیں اس لئے نظر نہیں آتا ؎۲۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؎۱۔ایسے ہی بعض آدمی مقام ابراہم کا استلام کرتے ہیںاور اس کو بوسہ دیتے ہیں علامہ نووی نے ایضا میں اور ابن حجر مکی نے توضیح میں فرمایا ہے کہ مقام ابراہیم کا استلام نہ کیا جائے اور نہ اس کو بوسہ دہا جائے یہ مکروہ ہے ۱۲ شیر محمد
؎۲۔اگر پہلی سیڑھی کی نیچے متصل زمین پر کھڑا ہو تب بھی صفا پر چڑھنا متحقق ہو جائے گا کیونکہ اب زمین کے اوپر ہو جانے کی وجہ سے بہت سیڑھیاں صفا مروہ کی دب گئی ہیں ۱۲ شیر محمد ۔
؎ اور سارے راستے صفا مروہ میں اکثر آدمی دوڑتے ہیں یہ بھی نہ چاہئے صر میلین کے