ہے کہ جدہ سے بھی کچھ ناشتہ ساتھ لے لیا جائے۔ تاکہ مکہ مکرمہ پہنچ کر فوراً کھانا پکانے کی فکر نہ ہو۔ راستہ میں سرکاری چوکیان بھی ہیں ان میں ٹیلی فون لگلا ہوا ہے اگر کوئی ضرورت پیش آئے یاکوئی شکایت وغیرہ کی نویت آئے یا سواری خراب ہوجائے تو پولیس کی چوکی پر اطلاع کر دو انشاء اللہ انتظام ہوجائے گا۔
حجاز کی زبان چونکہ عربی ہے اگر ساتھ کوئی ایسا شخص ہو کہ جو عربی بول سکتا ہے تو آرام ملے گا۔ اگر چہ وہاں کے لوگ بھی اردو کچھ سمجھتے ہیں۔ بدو پہلے بہت بدنام تھے مگر اب حکومت سعودیہ کا انتظام اور رعب بدوؤں کا کوئی خوف نہیں ہے۔ لیکن ان کے ساتھ جہاں تک ہوسکے اچھی طرح پیش آؤ۔ اگر ان کو کبھی کبھی کچھ پیسے بخشش کے نام سے دیدئیے جائیں تو بہت آرام سے اور جلدی مکہ معظمہ پہنچانے کی کوشش کریںگے۔
تنبیہ
اگر حج سے پہلے مدینہ منورہ جانے کا ارادہ ہو تو اختیار ہے کہ مکہ مکرمہ ہو کر جاؤ یا جدہ سے سیدھے مدینہ منورہ چلے جاؤ۔ اگر جدہ سے سیدھا نیہ طیبہ جانے کا ارادہ ہو تو یلملم سے عمرہ وغیرہ کا احرام نہ باند ھو کیونکہ حد حرم سے باہر باہر مدینہ منورہ کو جانا ہوگا۔ اور میقات سے بغیر احرام گزرنے کی جنابت لازم نہ ہوگی۔ کیونکہ میقات سے گذرتے وقت اس کا ارادہ جدہ سے سیدھا مدینہ طیبہ جانے کا ہے۔ اکثر لوگ یلملم سے گذرتے وقت اس کا ارادہ جدہ سے سیدھا مدینہ طیبہ جانے کا ہے۔ اکثر لوگ یلملم سے گذرتے وقت ان حاجیوں کو بھی جو پہلے مدینہ کو براہِ جدہ جانا چاہتے ہیں احرام عمرہ کا بندھواتے ہیں ایسا نہ کیا جائے اس سے احرام کی طوالت ہوجائے گی اور پریشانی میں اضافہ ہو جائے گا۔ بعض حاجی یلملم سے احرام باندھنے کے بعد یہ ارادہ کرتے ہیں کہ اب حدہ سے مدینہ طیبہ جاؤں گااوراس حالت میں احرام کھول کر کپڑے پہن لیتے ہیں۔ اس طرح کپڑے پہننے سے احرام ختم نہیں ہو جاتا بلکہ اس کی وجہ سے دم واجب ہوگا۔ اس طرح کپڑے پہننے سے حرام ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کی وجہ سے دم واجب ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے مدینہ جانے کا ارادہ ہوجائے تو احرام ہی کی حالت میں مکہ مکرمہ چلا جائے اور عمرہ کرکے پھر مدینہ منورہ چلا جائے اس میں صرف پانچ چھ گھنٹے صرف ہونگے۔ بغیر عمرہ کے احرام نہ کھولے اور ممنوعات احرام ہے بچے عمرہ کے مسائل اورزیارت مدینہ کابیان انشاء اللہ مفصل آگے آئے گا۔
حرم
مکہ مکرمہ کے چاروں طرف حدود مقررہ پر نشانات بنے ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ح ضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ مقامات بتائے تھے، اور وہاں نشانات لگادئیے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے پھر بنوئے پھر حضرت عمر ۔ حضرت عثمان۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہم وغیرہ نے اپنے اپنے زمانہ میں تجدید کی۔ جدہ کی طرف مکہ مکرمہ سے دس میل کے فاصلہ پر شمیمہ جہاں