مسئلہ:ٹوٹے ہوئے ناخن کو توڑنے سے کچھ واجب نا ہوگا ۔
مسئلہ:اگر اپنا ہاتھ مع انگلیوں کے ناخن سمیت کاٹا تو نہ دم نہ صدقہ ۔
تنبیہات
(۱)۔اگرعذر کی وجہ سے کوئی جنایت کی اور دم واجب ہوا تو اختیار ہے کہ دم دے یا تین صاع گیوںچھ مسکینوں کو دیدے یا تین روزے رکھے اگرچہ مالدار ہو اور اگر صدقہ واجب ہے تو روزہ اور صدقہ میں اختیار ہوگا اور بلا عذر جنایت کی وجہ سے جس جگہ دم یا صدقہ واجب ہوتا ہے وہ متعین طورسے واجب ہوتا ہے اس میں روزہ رکھنے کا اختیار نہیںہے ۔
(۲)۔جس جگہ متعن طور سے دم واجب ہو اس جگہ دم کے عوض طعام اور روزہ جائز نہیں ۔
(۳)۔شرعی عذر یہ ہیں (۱)ہر قسم کا بخار (۲)سخت سردی (۳)سخت گرمی (۴)زخم پھنسی کا ہو یا ہتھیار کا (۵)درد تمام سر کا یا آدھے سر کا (۶)سر میں جوئیںکثرت سے ہوجانا (۷) پچھنے لگوانا (۸) مرض یا سردی سے ہلاک ہونے کا ظن غالب ہونا (۹) جنگ کیلئے ہھیار لگانا (۱۰) دم کو جنایت سے پہلے ذبح کرنا کافی نہیں بعد میں ذبح کرنا شرط ہے (۱۱) صدقہ گیوں یا گیوں کے آٹے سے نصف صاع یعنی پونے دو سیر آدھی چھٹانگ انگریزی سیر سے اور جو یا جو کا آٹا ۔کشمش سے پورا ایک صاع قیمت دینا جائز بلکہ افضل ہے ۔
جماع وغیرہ کرنا
مسئلہ:شہوت سے کسی عورت یا لڑکے کا بوسہ لیا یا لپٹا ہاتھ لگایا یا قبل اور دبر کے علاوہ اور کسی جگہ کی یا شرمگاہ سے شرمگاہ ملائی تو دم واجب ہوگا ۔انزال ہو یا نا ہو اور حج فاسد نہ ہوگا ۔
مسئلہ:اگر عورت کی طرف شہوت سے دیکھا یا دل میں تصور کیا اور انزال ہوگیا یا احتلام ہو گیا تو کچھ لازم نہ ہوگا غسل واجب ہوگا ۔
مسئلہ:ہاتھ سے منی نکالی یا جانور سے جماع کیا یا پردہ عورت سے یا ایسی چھوٹی سے جوقابل شہوت نہیں ہے جماع کیا تو اگر انزال ہو گیا تو دم واجب ہے ورنہ کچھ واجب نہ ہوگا اور حج بھی فاسد نہ ہوگا ؎۱۔
مسئلہ:اگر آدمی سے قبل یا دبر میں جماع کیا اور ہشفہ غائب ہوگیا سونے کی حالت