گا او رباقی زمین اتنی بچ رہے گی کہ واپس آکر اس سے گزر کرسکتا ہے تواس پر حج فرض ہے اور اگر فروخت کر نے کے بعد گزر کے لائق نہیں بچی تو حج فرض نہیں۔
مسئلہ: ایک شخص کے پاس حج کے لائق مال موجود ہے لیکن اس کو مکان کی ضرورت ہے یا غلام کی ضرورت ہے تو اگر حج کے جانے کا وقت ہے یعنی اس وقت عام طور سے وہاں کے لوگ حج کو جاتے ہیں تو اس کو حج کر نا فرض ہے۔ مکان اور غلام میں صرف کرنا جائز نہیں البتہ اگر حاجیوں کے جانے کا وقت نہیں ہے تومکان وغلام میں صرف کرنا جائز نہیں البتہ اگر حاجیوں کے جانے کا وقت نہیں ہے تو مکان وغلام میں صرف کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: اگر کسی شخص کے پاس حج کے لائق روپیہ موجود ہے اور نکاح بھی کرنا چاہتا ہے تواگر حاجیوں کے حج کو جانے کا وقت ہے تواس کو حج کرنا واجب ہے۔ اور اگر ابھی حاجیوں کے حج کو جانے کاوقت نہیں آیا تو نکاح کرسکتاہے۔ لیکن اگر یہ یقین ہے کہ اگر نکاح نہ کیا تو زنا میں مبتلا ہوجائے گا تو پہلے نکاح کرے حج نہ کرے۔
مسئلہ: زاد راہ میں سرکاری محصول فیس معلمین اور دے گر اخراجات ضروریہ جو حاجیوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں سب داخل ہیں۔
مسئلہ: تحائف وتبرکات پر جورقم خرچ ہوگی وہ زادراہ میں شمار نہ ہوگی۔
مسئلہ: مدینہ منورہ کے سفر کے اخراجات بھی زاد راہ میں شمار نہیں ہیں بعض لوگ اس کو بھی شمار کر لیتے ہیں اور اس وجہ سے حج کو نہیں جاتے کہ مدینہ منور جانے کا خرچ ان کے پاس نہیں ہوتا۔ یہ سخت غلطی ہے۔ مدینہ منورہ کی حاضری بڑی نعمت ہے لیکن حج فرض ہونے میں اس کو دخل نہیں جس کو اللہ تعالیٰ وسعت دے اس کو ضرور جانا چاہیے۔ اورجس کے پاس صر ف حج کے لائق روپیہ ہو اس کو محض اس وجہ سے کہ مدینہ منورہ کے لیے روپیہ نہیں ہے حج کو مئوخر نہ کرنا چاہیے۔
مسئلہ: ایک شخص کے پاس اتنا مال موجود تھا کہ اس پر حج فرض ہوگیا لیکن اس نے حج نہیں کیا اور پھر فقیر ہوگیا توا س کے ذمہ حج باقی رہے گا۔ اس کو حج کرنے کی کوشش کرنی ضرور ی ہے۔
مسئلہ: حرام مال سے حج کرنا حرام ہے اگر اس نے حج کیا تو فرض تو ساقط ہو جائے گا مکر حج مقبول نہ ہوگا۔
مسئلہ: ایک شخص پر حج فرض نہیں تھااور اس نے پیدل حج کرلیا اورحج فرض کی نیت کی یا (۱) مطلق حج کی نیت کی توحج فرض ادا ہوگیا اس کے بعد اگر مالدار ہوجائے گا تو دوبارہ حج فرض نہ ہوگا۔ لیکن اگر پہلے نفل کی نیت سے حج کیا تھا۔ تو مالدار ہونے پر دوبارہ حج فرض ہو جائے گا۔
مسئلہ: حج فرض ہونے کے لیے شروع کی چھ شرطوں کے ساتھ وقت(۲) کا ہونا بھی شرط ہے کہ حج کے مہینے ہوں یعنی شوال : ذیقعدۃ اور دس روز ذی الحجہ کے یا ایسا وقت ہو کہ اس جگہ کے لوگ عام طور سے اس وقت حج کو جاتے ہیں۔