احکام اسلام عقل کی نظر میں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پہنچتی ہے، اس لیے ان کو بعض حصہ مالوفات کا دیا گیا تاکہ باقی کا ترک کرنا اس پر آسان ہوجاوے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر نفس کو اپنی بعض مرادیں مل جاتی ہیں تو ان پر قانع ہوجاتا ہے اور باقی کا چھوڑنا اس کو سہل ہوجاتا ہے۔ باقی خاوند کا سوگ چار ماہ دس دن رکھنے کی حکمت کتاب النکاح میں ذکر کریں گے۔اہلِ اسلام کا مردہ کو خاک میں دفن کرنے اور آگ میں نہ جلانے کی حکمت : ۔ دفن کردینے میں مردہ کے حق میں پردہ پوشی ہے اور زندوں کے حق میں کچھ دشواری نہیں۔ پانی اور ہوا میں مردہ کو رکھیں تو ناک اور آنکھ کو الگ الگ تکلیف پہنچے یعنی بدبو سے ناک سڑ جائے، صورت کو دیکھئے تو گھن جدا آوے، آگ میں جلائیں تو گو اس میں عرصہ دراز تک تو بدبو اور گھن نہیں رہتی لیکن جلانے کے وقت کی کیفیت تو جلانے والوں کو اور گرد و پیش کے رہنے والوں سے پوچھو۔ پھر ہوا کی خرابی سے پانی بگڑنے کا اور بیماریوںکے پیدا ہونے کا اندیشہ جد ارہا اور فسادِ عناصر سے جو کچھ نقصان پہنچتا ہے وہ جدا رہا۔ دفن کرنے میں نہ یہ خرابی نہ وہ فساد، بلکہ شیرازہ ترکیب بدن کے کھل جانے سے بدنِ مردہ کے عناصرِ اربعہ اپنے اپنے موقع اور مقام پر پہنچ جاتے ہیں اور اس لیے خاک اور پانی اور ہوا اور آتش کی مقدار جتنی تھی اتنی کی اتنی ہی ہمیشہ رہتی ہے۔ ۲۔ تپشِ آتش سے زمین کی قوتِ نامیہ کو جو نقصان پہنچتا ہے وہ بھی ظاہر ہے اور دفنِ مردگان سے جو کچھ قوتِ نامیہ کو تقویت ہوتی ہے وہ بھی چنداں پنہاں نہیں۔ تپش کی وجہ سے فسادِ قوتِ نامیہ تو خود عیاں ہے۔ باقی دفن کی وجہ سے قوتِ نامیہ کی تقویت کی وجہ یہ ہے کہ بدنِ انسان وہ چیز ہے کہ قوتِ نامیہ کے بہت سے زوروں کی بعد پردۂ عدم سے صفحہ ہستی پر نمایاں ہوتا ہے۔ غلہ اور میوہ جات سے اگر بدنِ انسانی بنتا ہے تو قطع نظر اس سے کہ اس بننے میں نشو ونما ہوتا رہتا ہے اور یہ خود قوتِ نامیہ کا کام ہے۔ یہ غذائیں بھی تو قوتِ نامیہ ہی کی کار گزاری کی بدولت اس رنگ و بو اور ذائقہ کو پہنچتے ہیں۔ القصہ قوائے نامیہ نے بڑی دقتوں سے زمین میں سے چھان کر یہ اجزا نکالے تھے، بعد دفن وہ اجزا یک جا جمع کیے کرائے قوتِ نامیہ ہی کو مل جاتے ہیں، اس لیے اگر مدفن اور قرب و جوارِ مدفن میں نشو و نما کا زور ہوا کرے تو دور نہیں اور کیوں نہ ہو، فضلہ انسانی بایں وجہ کہ غذا میں سے نکلا ہے اور غذا نتیجہ کار گزاری قوتِ نامیہ ہے زمین کی قوت کو اتنا بڑھا دیتا ہے کہ کیا کہیے! جسمِ انسانی جو اس سے کہیں زیادہ ہے، یہ زور کیوں نہ رکھتا ہوگا کہ جس کا فضلہ ایسا کچھ ہو وہ اصل جو خلاصہ اربعہ عناصر ہو کیا کچھ ہوگا! غرض تپشِ آتش کا قوت سوز ہونا اور جسمِ انسانی کا قوت انگیز ہونا زمین کے حق میں یقینی ہے اور یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ ہنود کے مر گھٹ پر سبزہ کا نام و نشان نہیں ہوتا اور مدفن اہلِ اسلام پر ہر جگہ سبزہ زار نظر آتے ہیں۔