احکام اسلام عقل کی نظر میں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نماز میں تعیینِ جلسہ کا راز : دو سجدے آپس میں اس وقت متمیز ہوسکتے ہیں کہ جب ایک تیسرا فعل ان کے درمیان میں حائل ہوجائے، اس لیے دو سجدوں کے درمیان جلسہ مقرر کیا گیا اور چوںکہ قومہ اور جلسہ بدون اطمینان کے ایک طرح کا کھیل ہوتا اور آدمی کی سبکساری پر دلالت کرتا جو شانِ عبادت کے بالکل خلاف ہے، اس لیے ان دونوں کو بھی اطمینان کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔حکمتِ تکرار بوقتِ رکوع و سجود : ۔ ہر مرتبہ جھکنے اور سر اُٹھانے کے وقت تکبیر کہنے میں یہ راز ہے کہ نفس کو ہر مرتبہ خدا کی عظمت اور اس کی کبریائی پر آگاہی اور تنبیہ ہوتی رہے اور اس کو اپنی ذلت اور مسکنت پر توجہ پڑتی رہے۔ ۲۔ دوسرے اس امر میں یہ حکمت ہے کہ جماعت کے لوگ تکبیر کو سن کر امام کا ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل ہونا معلوم کرتے ہیں۔ظہر و عصر کی نمازوں میں خفیہ اور مغرب و عشا و فجرمیں جہری قرأت پڑھنے کی وجہ : ظہر و عصر کی نمازوں میں خفیہ اور مغرب و عشا و فجر کی نمازوں میں بلند قرأت پڑھنے کا تقرر نہایت مناسب اور حکمتِ الٰہی پر مبنی ہے، کیوںکہ مغرب و عشا و فجر میں لوگوں کو اکثر شواغل واقوال و اصوات و حرکات میں خاموشی اور ان سے سکون و آرام ہوتا ہے اور ان وقتوں میں ان کے افکار و ہموم بھی کم ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے اوقات کی قرأت دلوں میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے، کیوںکہ دل تو افکار و ہموم سے خالی اور صاف ہونے سے اور کان شواغل و حرکات و اصوات کے نہ ہونے سے سمجھنے اور سننے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ چناںچہ رات کی بات کہی ہوئی کانوں سے گزر کر سیدھی دل پر جا کر لگتی ہے اور پکی اور مؤثر ہوتی ہے۔ اس امر کی طرف خدا تعالیٰ بھی قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: {اِنَّ نَاشِئَۃَ الَّیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلًاO}1 یعنی رات کے اُٹھنے سے نفس خوب پامال ہوتا اور کچلا جاتا ہے اور بات کہی ہوئی دل پر مؤثر اور پکی ہوتی ہے اور بیٹھ جاتی ہے۔ غرض یہ امر مسلّم ہے اور تجربہ بھی اسی امر کا گواہ ہے کہ خوش الحان آدمیوں اور پرندوں اور باجوں وغیرہ کی آواز رات کو