احکام اسلام عقل کی نظر میں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
جواب: ہم کہتے ہیں: یہی حال دواؤں کا بھی ہے۔ کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کردیا ہے؟ یا ان کا خطا جانا غیر ممکن ہے؟ مگر کیا باوجود اس بات کے کوئی ان کی تاثیر سے انکار کرسکتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کرکے دکھلایا بلکہ اگر غور کرکے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے جدا نہیں ہیں، مثلاً: اگر بیمار کی تقدیر موافق ہو تو اسبابِ علاج پورے طور پر میسر آجاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ ان سے نفع اُٹھانے کے لیے مستعد ہوتا ہے تب دوا نشانہ کی طرح جا کر اثر کرتی ہے۔ یہی قاعدہ دُعا کا بھی ہے یعنی دُعا کے لیے بھی تمام اسباب وشرائطِ قبولیت اس جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں ارادہ بھی اس کے قبول کرنے کا ہے۔باب الجنائز میت پر نمازِ جنازہ پڑھنے کی وجہ : عقل کا تقاضا ہے کہ جب کسی انسان کو بہت سے آدمیوں کا گروہ کسی عالی شان حاکم کے آگے لے جا کر اس کے لیے سفارش کریں اور اس کی معافی کی درخواست کریں اور اس کے لیے گڑ گڑا کر التجا کریں تو بالآخر اس کا قصور معاف ہوجاتا ہے۔ یہی نمازِ جنازہ کا راز ہے، یعنی نمازِ جنازہ اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ مؤمنین کے ایک گروہ کا میت کی سفارش میں شریک ہونا اس پر رحمتِ الٰہی کے نازل ہونے میں بڑا کامل اثر رکھتا ہے۔ آں حضرت ﷺ فرماتے ہیں: ما من مسلم یموت فیقوم علی جنازتہ أربعون رجلًا لا یشرکون باللّٰہ إلا شفعھم اللّٰہ فیہ۔ یعنی کوئی مسلمان ایسا نہیں مرتا کہ اس کے جنازہ پر چالیس آدمی کھڑے ہوں جو خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوں، مگر اس میت کے حق میں ان کی سفارش قبول فرماتا ہے۔ شرح اس کی یہ ہے کہ جب آدمی کی روح بدن کو چھوڑتی ہے اس کی حسِ مشترک وغیرہ کو حس اور ادراک باقی رہتا ہے اور