احکام اسلام عقل کی نظر میں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کھڑا ہونا قانونِ فطرت کی رو سے بھی بندگی کے لیے مناسب ہے۔نماز میں اِدھر اُدھر دیکھنا، لوگوں سے کلام کرنا منع ہونے کی وجہ : آں حضرت ﷺ فرماتے ہیں: لا یزال اللّٰہ تعالی مقبلا علی العبد وھو في صلاتہ ما لم یلتفت، فإذا التفت أعرض عنہ۔ یعنی جب تک بندہ نماز میں رہتا ہے خدا تعالیٰ برابر اس کی طرف متوجہ رہتا ہے جب تک وہ اِدھر اُدھر نہ دیکھے، پھر جب وہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی توجہ رحمت اس سے ہٹ جاتی ہے، مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بندہ خدا کی جانب متوجہ ہوتا ہے اس کے لیے خدا کی بخشش کا دروازہ کھل جاتا ہے اور جب بندہ اس سے اعراض کرتا ہے تو اس سے صرف محروم نہیں رہتا بلکہ اپنے اعراض کی وجہ سے عذابِ الٰہی کا مستحق بنتا ہے۔ جب ایک دنیاوی بادشاہ و حاکم کے دربار میں جاتا ہے تو اس کے رو برو نہ اِدھر اُدھر دیکھتا ہے، نہ کسی اور سے کلام کرتا ہے، نہ کوئی اور نامناسب کام کرتا ہے، تو احکم الحاکمین کے دربار میں ایسے اُمور کب جائز ہوسکتے ہیں؟ لہٰذا آں حضرت ﷺ فرماتے ہیں: إذا قام أحدکم إلی الصلاۃ فلا یمسح الحصی؛ فإن الرحمۃ تواجہہ۔ یعنی تم میں سے جب کوئی نماز کو کھڑا ہو تو ٹھیکر یوں کو صاف نہ کرے، کیوں کہ رحمتِ الٰہی اس کے رو برو ہوتی ہے۔ ایسا ہی ایک اور حدیث شریف میں وارد ہوا ہے: إن ھذہ الصلاۃ لا یصح فیھا شيء یعنی نماز میں لوگوں کی بول چال میں سے کچھ من کلام الناس، إنما ھي التسبیح والتکبیر وقرأء ۃ القرآن۔