احکام اسلام عقل کی نظر میں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کوئی قرینہ جو تعظیمِ قلبی کا قائم مقام ہو پایا جانا ضروری ہے۔ پس جب کہ قبلہ کی طرف منہ کرنا تعظیمِ قلبی اور یادِ الٰہی میں جمعِ خاطر ہونے کا قائم مقام ٹھہرا اور قائم مقام ہونے کی یہ شرط ہے کہ یہ ہیئت تعظیمِ الٰہی کے لیے مخصوص رہے۔ پس جو ہیئت نماز کی ہیئت کے بالکل منافی اور اس کی ضد ہے یعنی حالتِ پاخانہ پیشاب جماع، ایسی حالتوں میں قبلہ کو نہ منہ کیا جاوے نہ پشت، کیوںکہ اس میں بے ادبی ہے۔نیند سے وضو ٹوٹنے کی وجہ : نبی ﷺ فرماتے ہیں: العینان وکاء السہ؛ فإنہ إذا اضطجع استرخت مفاصلہ۔ یعنی سرین کا بند آنکھیں ہیں، کیوں کہ جب آدمی لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں (اور ریح وغیرہ کے نکلنے کا گمان غالب ہوتا ہے)۔پاخانہ جانے اور اس سے نکلنے کے وقت أعوذ و غفرانک پڑھنے کی وجہ : پاخانہ کو جانے کے وقت أعوذ باللّٰہ من الخبث والخبائث پڑھنا اس لیے مستحب ہے کہ اس جگہ شیاطین جمع رہتے ہیں، اس لیے کہ ان کو نجاست بھاتی ہے۔ اور پاخانہ سے نکلنے کے وقت غفرانک کہے، کیوںکہ پاخانہ میں ذکرِ الٰہی ترک ہوجاتا ہے اور شیاطین سے مخالطت کا وقت ہوتا ہے، اس سے مغفرت مانگنی مناسب ہے۔تین ڈھیلوں سے امرِ استنجا کی وجہ اور گوبر اور ہڈیوں سے منعِ استنجا کا راز : عن أبي ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: إنما أنا لکم مثل الوالد لولدہ، أعلمکم، إذا أتیتم الغائط فلا تستقبلوا القبلۃ ولا تستدبروھا۔ وأمر بثلاثۃ أحجار، ونھی عن الروثۃ یعنی حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ فرماتے ہیںکہ میں تمہارے لیے بمنزلہ باپ کے ہوں، تم کو آداب سکھاتا ہوں، جب تم پاخانہ کو جاؤ تو قبلہ رو اور قبلہ پشت ہو کر نہ بیٹھو، اور استنجا کرنے کو منع فرمایا الخ۔