احکام اسلام عقل کی نظر میں - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ماہِ رمضان کے عشرۂ اخیر میں مسجد کے اندر معتکف ہونے کی وجہ : لفظ اعتکاف عکف سے نکلا ہے، جس کے معنی روکنے اور منع کرنے کے ہیں، چوں کہ معتکف جب کہ روزہ دار بھی ہو تمام حوائجِ دنیویہ و اغراضِ نفسانیہ سے اپنے کو بقصدِ عبادتِ الٰہی مسجد میں روک کرکے اس کے در پر اپنے کو گرا دیتا ہے، اس لیے اس فعل کا نام اعتکاف ہوا اور وہ مسنون بھی ہے۔ چناں چہ بروایت ابی بن کعب ؓ ’’ابنِ ماجہ‘‘ میں ہے کہ آں حضرت ﷺ رمضان کے عشرۂ اخیر میں اعتکاف میں بیٹھا کرتے تھے۔ پس روزہ عاشقانہ رنگ میں ایک تصویری زبان کی دعا والحاح ہے اور اعتکاف عاشق کا دروازۂ معشوق پر اپنے آپ کو بحالتِ تضرع و زاری پیش کرنا ہے، گویا معتکف اپنے آپ کو درگاہِ الٰہی میں ایسا مقید کرتا ہے جیسا کہ ایک الحاح کنندہ سائل کسی کے دروازہ پر معتکف ہوجاتا ہے اور اپنی حاجت و مراد حاصل ہوئے بغیر نہیں ہٹتا، یا یہ کہ عاشق زار کی طرح اپنے معشوق کے دروازے پر بھوکا پیاسا بن کر اور دنیا کی تمام حوائج و اغراض سے فارغ و لا ابالی ہو کر محض جلوۂ محبوب و معشوق کے لیے اس کے دروازے پر معتکف ہوجاتا ہے اور جب تک اس کا معشوق اس کو اپنا منہ نہ دکھائے اس کے در سے نہیں ہٹتا اور اس کے شوق میں ساری لذات کو چھوڑ کر اس کے در پر آ کر سر رکھ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعتکاف خانۂ خدا یعنی مسجد1 کے بغیر کہیں جائز نہیں، کیوںکہ عاشق طالبِ دیدار کو اپنے معشوق کے دروازے ہی پر گرنا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ بحالتِ اعتکاف معتکف کو رات میں بھی اپنی عورت سے مباشرت کرنی جائز نہیں، کیوںکہ صادق عاشق کو ان باتوں کا کہاں خیال رہتا ہے۔ اور یہ کہ ماہِ رمضان کے عشرۂ آخری میں لیلۃ القدر کا ظہور روایات میں مذکور ہے، وہ ایسی ہی تجلی ہے جس کا اصلی ظہور ایسے ہی عاشق پر ہوتا ہے۔بھول کر کھانے پینے اور جماع کرنے والے کا روزہ نہ ٹوٹنے کی وجہ : سوال: جب کہ صوم کے معنی ترک کرنے اور روکنے کے ہیں، تو جو شخص بھول کر کوئی چیز کھا پی لے اس نے حدِ صوم اور صفتِ ترک کو توڑ دیا، پس اس کا روزہ کیوںکر باقی رہ سکتا ہے؟ جواب: اگر روزہ دار بھول کر کسی چیز ناقضِ صوم کا استعمال کرلے تو بھی امساک و ترکِ شرعی اس کے حق میں موجود ہے، کیوںکہ شارع نے اس کے فعل کو اپنی طرف منسوب کیا ہے، چناںچہ فرمایا: إن اللّٰہ أطمعہ وسقاہ۔ (یعنی خدا تعالیٰ نے اس کو کھلایا اور پلایا۔) پس اس میں بندہ کا فعل حکماً معدوم ہوتا ہے، اگرچہ حساً وہ کھانے والا ہوتا ہے اور امساک جس