روز ذبح ؎۱کا وقت مکرر کیا حلال ہو جائے گا لیکن سر منڈانا مستحب ہے محصر اگر قاقرن ہے تو اس کو دو دم ذبح کرانا واجب ہے ایک احرام حج کا اور ایک احرام عمرہ کا ہر ایک کیلئے دم کی تعیین شرط نہیں البتہ افضل ہے اور اگر قارن نے صرف ایک دم ذبح کرایا اور تو قارن کا احرام اس وقت تک نہ کھلے گا جب تک دوسرا دم ذبح نہ کرائے گا کیونہ قارن دونوں احراموں سے ایک ہی دفعہ حلال ہوتا ہے ۔
مسئلہ:اگر وقت مکررہ سے پہلے حلال ہوگیا یعنی کوئی فعل موجب جنایت کرایا یا یہ معلوم ہوا کہ ذبح حرم میں نہیں ہوا بلکہ حل میں ہوا ہے تو کفارہ جنایت کا واجب ہوگا اگر جنایت مکرر ہوگی تو کفارہ بھی مکرر ہوگا ۔
مسئلہ:ذبح کرنے والے سے جس وقت ذبح کا وعدہ کیا ہے اگر اس وقت سے اس نے ایک دو روز پہلے ذبح کر دیا تو محصر کا حلال ہونا اس دم سے جائز ہوگا اور اگر بعد ذبح کے یہ معلوم ہوا کہ حرم میں ذبح نہیں ہوا بلکہ حل میں ہوا ہے تو دوسرا دم دوبارہ حرم میں ذبح کرنا ضروری ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؎۱۔عام فقھاء نے یہی لکھا ہے صرف ذبح سے حلال ہو جائے گالیکن صاحبب لباب نے لکھا ہے کہ محص ذبح سے احرام سے نہ نکلے گا جب تک کہ کوئی فعل ممنوعات سے نہ کرے گا اگرچہ بال منڈوانے کے علاوہ کوئی فعل مگر رد المختار اور غنیہ میں چونکہ صاحب لباب کی تردید کی گئی ہے اور ذبدۃ المناسک میں بھی صرف ذبح سے حلال ہونے کو اختیار کیا ہے اس لئے یہی راجح ہے کہ ذبح سے ہی حلال ہوجائے فی الدرالمختار ۔وفی اللباب ولا یخرج من الاحرام بمجرد والذبح حتی یتخلل بفعل ای من محظورات الاحرام ولو بغیر حلق (قاری)قلت ھذا مخالف لکلام المصنف وغیرہ مع انہ لا تظھر ۱۲ سعید احمد
؎۲۔البتہ کہیں جگہ ایسی محصور ہوجائے جہاں دم کا پہنچانا ممکن نہ ہو جیسا کہ جہاز میں حکام نے جہاز روک کر واپس کر دیا پس ایسی حالت میں حرم سے باہر ہی ہدی ذبح کر کے حلال ہونے کی گنجائش ذیل کی عبارت سے معلوم ہوتی ہے عین الہدایہ ترجمہ ہدایہ میں ہے علماء حنفیہ نے جواب دیا کہ حدہبیہ میں نصف حل ہے اور نصف حرم ہے تو شاید آپ نے حصہ حرم میں ذبح کیا ہو اور دوسرا جواب یہ ہے کہ مشرکین نے ہدی ہی کو روکا تھا چنانچہ اللہ تعالی نے فرمایا ھم الذین کفروا وصدواکم عن المسجد الحرام والھدی معکوفا ان یبلغ محلہتو ہدی کو اپنے محل میں جانے نہیں دیا اورمبسوط نے کہا کہ آپ نے حل میں ذبح کیا اس واسطے کہ اس وقت آپ کو ایسا آدمی نہیں ملتا تھا جس کے ہاتھ حرم میں بھیجتے تو آپ کے واسطے یہ امر خاص تھا (مترجم ھدایہ کہتے ہیں ) میں کہتا ہوں کہ جس قول کے موافق جس کسی کو آدمی میسر نہ ہو تو اس کو جائز ہوگا کہ مقام احصار میں ذبح کر دے اور شک نہیں کہ اگر لے جانا ممکن نہ ہو یا آدمی میسر نہ ہو تو اس کو سوا چارہ نہیں یہ ہمارے نزدیک تو ضرورت یا تنگی کی وجہ سے جواز کی گنجائش نکلی اور امام شافعی کے مسلک میں مطلق جائز ہے پس اس توافق سے بھی تائید ہوئی اس سے جہاز وغیرہ میں محصر کیلئے بھی گنجائش ہے اصل مذہب تو وہی ہے کہ یہ اشتراط الاجلال عند الاحرام کچھ مفید نہیں لیکن اس زمانے میں اگر ایسی اشد ضرورتپیش آجائے