بعد اور بخار آگیا اور کوئی مرض پیدا ہو گیا تو دوسرا کفارہ واجب ہوگا ۔خلاصہ یہ کہ ہر مرض کو علیحدہ سبب شمار کیا جائے گااور ہر ایک کیلئے کپڑا استعمال کرنے سے مستقل کفارہ ہوگا۔
مسئلہ: ضرورت کی وجہ سے کپڑا پہنا پھر یقین ہو گیا کہ اب ضرورت نہیں رہی لیکن پہنے رہا نکالا نہیں تو اگر ایک رات یا ایک دن پہنے رہا تو دم واجب ہے ورنہ صدقہ اور اگر یقین نہیں تھا شک تھا تو ایک ہی کفارہ واجب ہے ۔
مسئلہ: تیسرے دن بخار جاڑا آتا ہے یا کوئی دشمن مقابلہ میں ہے اور اس کی وجہ سے روز کپڑا پہننا اور نکالنا پڑتا ہے یہ ایک ہی سبب ؎۲ شمار ہوگااور ایک ہی کفارہ واجب ہوگا اگر کوئی دوسرا؎۳ بخار یا دوسر دشمن آگیا تو دوسرا سبب؎۴ شمار ہوگااور اس کی وجہ سے دوسرا کفارہ دینا ہوگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؎۱ ۔بخار کے اتر جانے کے بعد فورا دوسر مرض پیدا نہ ہو بلکہ تھوڑے وقت بعدکے بعد ہوا دو کپڑا نہیں اتارہ تو تین جزائیں ہوں گی پہلی اور پچھلی مخیرہ دور دوسری غیر مخیرہ اور اگر بخار کے اتر جانے کے بعد معا دوسرا مرض پیدا ہوا اور جزائے مخیرہ لازم ہونگی اور اگر بخار کے اتر جانے کے بعد فورا کپڑا بھی اتار دیا اور اس کے بعد دوسرا عذر پیدا ہوا اور پھر کپڑا پہنا تو دو جزائیں مخیرہ دینی ہونگی حسب مدت کے ان مسائل میں اکثر حجاج مبتلاء ہوتے ہیں خیال رکھنا چاہئے ۔۲۱ شیر محمد
؎۲ ۔بشرطیکہ پہلا سبب جاتا رہا ہو ۔۱۲شیر محمد
؎۔۳ ایک سبب کی وجہ یہ ہے کہ گویا یہ پہلا سبب کئی روز تک مستمر چلا جا رہا ہے اور بیچ میں یہ عارضی افاقہ ہے یعنی بلکل چھوڑ کر نہیں گیا ۱۲ شیر محمد
؎ ۴۔اگر پہلا عزر بلکل چلاگیا اس کے بعد دوسرا عذر پیدا ہوا تو یہ دوسرا سبب شمار ہوگا ۔۱۲شیر محمد
مسئلہ:اگر کرتہ کو کاغذ کی طرح لپیٹ لیا یا لنگی کی طرح باندھ لیا یا شلوار کو لپیٹ لیا تو کچھ واجب نہیں ۔مطلب یہ ہیکہ سلے ہوئے کپڑے کے پہننے کا جو طریقہ ہے اس کے خلاف پہننے سے اس کے خلاف پہننے سے جزاء واجب نہیں ہوتی ۔
مسئلہ:چوغہ یا قبا مونڈھوں پر ڈال لی اور بٹن نہیں لگایا اور نہ ہاتھ آستینوں میں ڈالے تو کچھ واجب نہ ہوگا لیکن اس طرح پہننا مکروہ ہے اور اگر بٹن لگا لئے اور ہاتھ آستینوں میں ڈال لئے تو ایک دن یا ایک رات پہننے کی صورت میں دم واجب ہوگا اور کم میں صدقہ ۔
مسئلہ: چادر کو رسی سے باندھنے سے کچھ بھی واجب نہ ہوگا لیکن مکروہ ہے ۔
مسئلہ:اگر صرف پاجامہ یاشلوار پاس ہواور کوئی کپڑا نہیں اس وجہ سے اس کو بلا پھاڑے حسب معمول پہن لیا تو اگر شلوار یا پاجامہ اتنا بڑا ہے کہ اس کو بھاڑ کر تہبند بنا سکتا ہے تو دم واجب ؎۱ ہوگا ورنہ فدیہ ہوگا۔
مسئلہ : عورت کو سلا ہوا کپًڑا پہننا جائز ہے اس پر کوئی جزاء واجب نہیں ۔
مسئلہ:اگر ایک محرم نے دوسرے محرم کو کپڑے پہنا دیا تو پہنانے والے پر جزاء نہیں لیکن گناہ ہے اور پہننے والے پر جزاء ہے ۔ مسئلہ:عورت کو سلا ہوا کپڑے