قریب سامنے کھڑا ہو کر دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائے جس طرح نماز کے لیے اٹھائے جاتے ہیں (یعنی کانوں کے برابر) اور ہاتھ اٹھا کر یہ پڑھے۔
بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ اَکْبَرْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ اَللّٰہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَتَصْدِیْقًام بِکَتَابِکَ وَوَقَائً بِعَہْدِکَ وَاتِّبَاعًا لِّسُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمُط
اللہ کانام لے کر شروع کرتاہوں وہ سب سے بڑا ہوے۔ اے اللہ تیرے حکم کی تعمیل میں تیری کتاب کی تصدیق اورتیرے عہد کا ایفاء اورتیرے نبی ﷺ کے اتباع کے لیے اس پتھر کوچھوتا اور چومتا ہوں۔
اس کے بعد ہاتھ چﷲوڑ کر حجر اسود پر آئے اور دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھ کر منہ دونوں ہاتھوں کے بیچ میں رکھ کر بوسہ دے لیکن آہستہ بوسہ دے کہ چٹاخے کی آواز پیدا نہ ہو اور بعض کے نزدیک یہ بھی مستحب ہے کہ بوسہ دینے کے بعد حجر اسود پر سر رکھے اوراس کے بعد دوسرا بوسہ پھر سر رکھے۔ پھر تیسرا بوسہ دے اوراسر رکھے اس کے بعد داہنی طرف یعنی بیت اللہ کے دروازظے کی طرف کو چلے اوربیت اللہ بائیں مونڈھے کی طرف رہے اور طواف میں حطیم کوبھی شامل کرے حطیم اوربیت اللہ کے بیچ میں کو نہ نکلے۔ جب طواف کرتا ہوا رکن یمانی (کعبہ کے جنوبی مغربی گوشہ کانام ہے) پرپہنچے تو اس کا استلام کرے یعنی دونوں ہاتھ یا صرف داہنا ہاتھ اس کو لگائے بوسہ نہ دے اور اس پرپیشانی وغیرہ نہ رکھے پھر جب حجر اسود پرآئے حجر اسود کا استلام کرے جیسا اول مرتبہ کیا تھا۔ لیکن ہاتھ نہ اٹھائے ہاتھ صر ف پہلی دفعہ اٹھائے جاتے ہیں او رحجر اسود تک پھر آنے کو شوط (ایک چکر) کہتے ہیں۔ اسی طرح سات چکر پورے کرے اور ساتویں شرط کے بعد آٹھویں مرتبہ پھر حجر اسود کا استلام کرے بس ایک طواف پورا ہوگیا۔ اس کے بعد دو رکعت طواف مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھے۔ پہلی رکعت میں قل یا یہا الکفرون اور دوسرے رکعت میں قل ہو اللہ پڑھے اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے لیکن دعا آدم علیہ السلام اس مقام پر ماثور ہے وہ یہ ہے۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ سِرِّیْ وَعَلَا نِیَتِیْ فَاَقْبَلْ مَعْذِ رَتِی وَتَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَعْطِنِیْ سُئْوالِیَ وَتَعْلَمُ مَافِیْ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ ذُنُوْ بِیْ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَانَا یُّبَاشِرُ قَلْبِیْ وَیَقِیْنًا صَادِقاً حَتّٰی اَعْلَمَ اَنَّہٗ لاَ یُصِیْبُنِیْ اِلاَّمَاکَتَبْتَ لِیْ وَرِضًام بِمَا قَسَمْتَ لِی یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ط
یا اللہ آپ میری ظاہری اور باطنی سب حالتوں سے واقف ہیں۔ میں عذر کرتا ہوں بس اب میرے عذر کو قبول فرما اور آپ میری حاجت کو اور جو کچھ میرے دل میں ہے جانتے ہیں پس میری حاجت کو پورا فرمادیں اور میرے قصور کو معاف فرمادیں۔ یا ارحم الراحمین مجھ کو ایسا ایمان عطا فرما جو میرے دل میں جم جائے اور ایسا یقین عنایت فرماکہ میں آپ کے سوا کسی کی کچھ پر واہ نہ کروں اور ایسی اچھی عادت عطا فرماکہ آپ کی دی ہوئی چیز پر خوش ہوجاؤں۔ پھر دوگانہ طواف پڑھ کر مستحب ہے کہ چاہ زمزم پر جا کر آب زم زم پیے اور دعا مانگے اس وقت دعا قبول