(۵)اکثر آدمیوں کو دیکھا کہ وہ مسجد حرام میں فقراء کو روٹی یا نقد وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور فقراء آپس میں چھینا چھبٹی اور شور وشغب کرتے ہیں یہ مسجد کے احترام کے خلاف ہے جو کچھ تقسیم کرنا ہو مسجد سے باہر تقسیم کرنا چاہئے ورنہ مسجد کی بے حرمتی کے گناہ میں تقسیم کرنے والا بھی شریک ہوگا ۔
(۶)جو جانور کسی جیایت کے بدلے میں ذبح کیا جائے اس میں سے خود کھانا یا مالدار کو کھلا نا جائز نہیں وہ فقراء کا حق ہے بعضے لوگ خود بھی کھا لیتے ہیں یا غلظی سے کھا لیا تو جتنا کھایا اس کی قیمت صدقہ کرنی واجب ہے ۔
(۸)چاہ زمزم کی چاروں طف کی زمین مسجد حرام ؎۱کا جزء ہے اس کے احکام مسجد کے ہیں اس میں تھوکنا ،ناک کی ریزش گرانا ،جنبی کو وہاں آنا ، اور محدث کو وضو کرنا وہاں جائز نہیں تبرک کیلئے بدن پر وہاں پانی ڈالنے کا مضائقہ نہیں اس جگی اکثر لوگ بے احتیاطی کرتے ہیں بلغم ڈالتے ہیں وضو کرتے ہیں یہ بڑی بے ادبی اور گناہ ہے ۔
(۹)مسجد زمزم میں آب زم زم کی خرید وفروخت بھی جائز نہیں مسجد حرام میں بہت سے لوگ پانی پلاتے ہیں پانی پلانا بڑی اچھی بات ہے مگر اکثر پانی پلانے والے محض اس واسطے پانی پلاتے ہیں کہ اس کے معاوضے میں کچھ لیں اور یہ اب عام دستور ہو گیا ہے پلانے والے اس کا معاوضہ طلب کرتے ہیں اور بعضے تو نہ دینے والے کو برا بھلا بھی کہتے ہیں اور پینے والے بھی اکثر دینے کے عادی ہو گئے ہیں بالکل ’’بیع تعاطی‘‘ کی صورت ہو گئی ہے ایسے لوگوں کو پانی پلانا اور ان سے اس طرح پینا ناجائز ہے اس کے علا وہ ان کے پانی پلانے میں اور بھی بہت سی قباحتیں ہیں جن کو صاحب مدخل نے بیان کیاہے اور ہم نے بھی ان کو ’’معلم الحجاج ‘‘میں ذکر کیا ہے ۔
(۱۰)مساجد کی تعظیم میں اکثر لوگ کوتاہی کرتے ہیں ’’مسجد خیف‘‘میں بعضے آدمیوں کو دیکھا کہ اسی میں کھانا پکاتے ہیں ،برتن دھوتے ہیں اور بعضے بد تمیز تو پیشاب بھی کر دیتے ہیں اور اس کا فرش چونکہ خام ہے اس لئے اس کو قابل احترام نہیں سمجھتے مسجد پختہ ہویا خام مسجد ہے سب کا ادب برابر ہے اللہ تعالی ہم کو ادب کی توفیق عطا فر ئے ۔اور بے ادبی سے محفوظ فرمائے۔
(۱۱)حجاز کا روپیہ جس کو ریال کہتے ہیں انگریزی روپیہ سے وزن میں زیادہ ہے بعضی آدمی اس کو بھی انگریزی روپیہ کے قائم مقام سمجھ کر لین دین اور تبادلہ کر لیتے ہیں اور بعضے نوٹ پر بٹہ بھی لیتے دیتے ہیں یہ ناجائز ہے اگر حجازی روپیہ انگریزی روپیہ سے بدلو تو روپیہ نہ لو بلکہ قرش (حجازی آنے)لے لو تاکہ سود لازم نہ آئے یا کچھ قرش لے لو اور کچھ چاندی کے سکے ۔
(۱۲)بیت اللہ پر جو خوشبو لگی ہے اس کو تبرک کے طور پر استعمال کرنا جائز نہیں بعضے لوگ تبرک سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ایسے ہی بیت اللہ کا موم بھی