سمجھتے ہیں اور یہ کہ کر اڑا دیتے ہیں کہ میاں اس کا کیا اعتبار ہے۔
(۴)بعضے اونٹ پر ہی نماز پڑھ لیتے ہیں حالانکہ بلا عذر شرع اونٹ پر فرض نماز جائز نہیں البتہ ،مجبوری کے وقت جائز ہے ۔
(۵)بعض لوگ جہاش میں سارا راستہ قبلہ وہی رخ رکھتے ہیں جو ہندوستان اور پاکستان میں ہے حالانکہ جہاز میں قبلہ کا رخ بدلتا رہتا ہے عدن کے قریب شمال کی جانب اور جدہ کے قریب شرق کی جانب ہوتا ہے حجاج کیلئے ضروری ہے کہ سفر میں نماز پڑھنے کے مسائل بھی سفر شروع کرنے سے پہلے معلوم کر لیں ’’معلم الحجا ج‘‘ میں بھی ہم نے جہاز اور اونٹ وغیرہ پر نماز پڑھنے کے ضروری مسائل اور قبلہ نما کا نقشہ لکھا ہے اس کو دیکھ لیا جائے ۔
(۶)بعض عورتیں بلا شوہر اور محرم کے حج کا سفر کرتی ہیں بلا محرم حج کو جانا ناجائز اور گناہ ہے ایسی عورتوں کو راستہ میں بعض اوقات بڑے خطرات پیش ہوتیہیںاور اجنبی لوگوں کو سواری پر اترتے چڑھتے وقت ہاتھ لگانے کی نوبت آتی ہے جوفتنہ سے خالی نہیں عورت کے ساتھ جب تک محرم نہ ہو ہر گز حج کو نا جائے اور وصیت کردے کہ اگر میں حج نہ کر سکوں تو میری طرف سے حج کرادیا جائے مرنے کے بعد وصیت کی شرائط کے مطابق وارثوں کے ذمے اس وصیت کو پورا کرنا ہوگا اور ورثاء اگر اس کی وصیت پوری نہیں کرینگے تو وہ گنہگار ہونگے وصیت کرنے والی حج نہ کرنے کی ذمہ داری سے بری ہوجائے گی اگر وصیت نہ کریگی تو اس کے ذمے مواخذہ ہوگا ۔
(۷)سفر میں اکثر عورتیں پردہ کا اہتمام نہیں کرتیں دوسرے ممالک کی عورتوں کو دیکھ کر بعضی پردہ والیاں بھی بے پردہ ہوجاتیں ہیں اور سفر حج میں بے پردگی کے گناہ میں مبتلاء ہو جاتی ہیں خود عورتوں کو اور ان سے زیادہ ان کے اولیاء کو اہتمام کی ضرورت ہے کہ یہ زمانہ نہایت نازک شرعی ہے ضروری پردہ کا اہتمام کرنا واجب ہے ۔
(۸) سفر حج میں لوگ آپس میں بہت لڑتے ہیں بالخصوص جہاز پر سوار ہوتے وقت جگہ لینے پر بہت ہی لڑائیاں ہوتی ہیں بعضے آدمی تو اس قدر حدود سے تجاوز کرتے ہیں کہ گالی گلوچ اور مار پیٹ تک نوبت پہنچ جاتی ہے اس مبارک سفر میں جنگ وجدال اور گالم گلوچ بہت بڑا گناہ ہے ۔
حق تعالی شانہ کا ارشاد ہے کہ :
’’الحج اشھر معلومات فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج ‘‘
ترجمہ:حج کے چند مہینے معلوم ہیں پس جو شخص ان میں حج (شروع)اور لازم کر لے تو حج میں نہ جماع (کرے)نہ گناہ اور نہ جھگڑا (کرے)۔