ملفوظات حکیم الامت جلد 1 - یونیکوڈ |
|
علاوہ میرا ذوق بھی ان چیزوں کے خلاف ہے اور مدار قبول اسکات خصم نہیں اسقاط ہے ـ سوال : ہم ہر طرح پر کمزور ہیں کچھ نہیں کر سکتے ـ جواب : یا تو اس قدر قوت تھی جوش تھا کہ منصوص کے مقابلہ میں غیر منصوص پر عمل کرنے کو تیار تھے یا یہ عقیدہ کر لیا ہے کہ ہم کمزور ہیں کام کیجئے ـ مگر شرط یہ ہے کہ حدود شرعیہ کو محفوظ رکھتے ہوئے کام کیجئے ـ انبیاء ؑ کی تدابیر میں اثر نہ ہو غضب کی بات ہے اپنی اختراع کی ہوئی تدابیر کو مؤثر سمجھیں ـ میں پوچھتا ہوں کہ تدابیر کے استعمال میں خدا کے راضی کرنے میں کامیابی کا اثر ہوگا یا ناراض کرنے میں ظاہر ہے کہ راضی کرنے میں اثر ہو گا تو اس کی ایک ہی تدبیر ہے کہ تدابیر منصوصہ پر عمل کیا جائے ـ سوال : ان غیر منصوصہ پر جو عمل کیا جائے گا غیر مشروع اور برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرینگے تو اس میں بھی خدا تعالی کی ناراضی نہ ہوگی ـ جواب : یہ تو اور بھی برا ہے کہ معصیت کو معصیت بھی نہ سمجھا جائے بلکہ معصیت کو نیکی سمجھ کر کیا جائے یہ درجہ تو اس سے بھی برا ہے اور بہت برا ہے پھر بدعت کوئی چیز ہی نہیں رہتی اس لئے کہ بدعتیں جس قدر ہیں سب کو دین ہی سمجھ کر کرتے ہیں اہل بدعت یہی جواب دے سکتے ہیں کہ ہم برا سمجھ کر تھوڑا ہی کرتے ہیں اس سے تو سنت اور بدعت جائز اور نا جائز میں کوئی فرق ہی نہیں رہتا ہر برے کام میں نیت اچھی کر لیا کریں کہ ہم جو کر رہے ہیں یہ برا کام نہیں بلکہ نیک کام ہے ـ آپ ہی بتلایئے کہ یہ کلیہ کہاں تک صحیح ہے جو آپ نے بیان کیا ـ سوال: منصوص تدابیر کے مقابل ان جدید تدابیر کو منہی عنہ نہیں فرمایا گیا نہ نہی وارد ہے نہ حکم ہے تو اس صورت میں مسکوت عنہ کہا جائے گا ممنوع ہونے کی وجہ ہے ؟ جواب : جن چیزوں کی حاجت خیرالقرون میں نہ ہوئی ہو اور خیرالقرون کے بعد حاجت پیش آئی ہو اور نصوص ان کے خلاف نہ ہوں وہ تو مسکوت عنہا ہو سکتی ہیں لیکن ان چیزوں کی تو حاجت