ملفوظات حکیم الامت جلد 1 - یونیکوڈ |
|
ہمیشہ ہی پیش آتی رہی پھر بھی نصوص میں صرف جہاد یا صبر ہی کا حکم ہے تو اس اعتبار سے یہ مسکوت عنہ نہ ہوگا منہی عنہ ہوگا ـ کہ باوجود ضرورت کے متقدین نے اس کو ترک کیا ـ اختیار نہیں کیا تو اجماع ہو اس کے ترک پر اس لئے ممنوع ہوگا ـ علاوہ ان سب باتوں کے ایک یہ بات باریک ہے جس کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہر کام کرنے کیلئے حدود کی ضرورت ہے ان تحریکات میں بھی ضرورت ہے سو اس کا تحفظ کون کریگا یا کون کرائیگا ـ ایک لڑکا زمانہ خلافت میں ہجرت کر گیا اس کی ماں روتی روتی اندھی ہو گئی اس کو کون دیکھے گا کہ کس کو جانا چاہئے اور کس کو نہیں ـ اگر تدابیر جدیدہ جائز بھی ہوں تب بھی اس کی ضرورت ہے کہ کوئی امیر ہوتا کہ حدود کی رعایت خود بھی کرے اور دوسروں سے بھی کرائے ـ بلا امیر کے کچھ نہیں ہو سکتا ـ فرمایا ! کہ امیر پر یاد آیا کہ ایک ڈاکٹر صاحب ہیں پنجاب میں بہت ہی مخلص اور سمجھ دار شخص ہیں زمانہ تحریک خلافت میں ان کے ایک عزیز بڑے ہی جوش اور سرگرمی کے ساتھ حصہ لئے ہوئے تھے ـ ڈاکٹر صاحب ان معاملات سے یکنو تھے ـ ایک روز ڈاکٹر صاحب سے کہا کہ آپ اس تحریک میں حصہ کیوں نہیں لیتے ڈاکٹر صاحب نے میرا نام لے دیا کہ وہ شریک نہیں اس لئے میں کوئی حصہ نہیں لے سکتا ـ یہ سن کر بولے کہ میں اس کو تو پانچ منٹ میں اپنے ساتھ کر لوں گا ـ دیکھیں کیسے شریک نہیں ہوتے مجھ کو تھانہ بھون لے چلو میں گفتگو کروں گا ـ ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ مجھ سے بیان کیا کہ میرے بھائی ایسا کہتے ہیں اگر اجازت ہو ساتھ لے کر آؤں ـ میں نے لکھ دیا کہ ضرور لاؤ ایسے آدمی کی ضرورت ہے جو اس قدر ذہین ہو مجھے خود ان سے ملاقات کا اشتیاق ہو گیا کہ اس لئے کہ ایسا ذہین آدمی کہاں ملتا ہے ـ میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میری ہمیشہ یہ نیت رہی اور ہے کہ مسلمان تو بڑی چیز ہیں اگر مجھ کو بھنگی کا بچہ بھی سمجھا دے میں مان لوں گا ـ خدانخواستہ کوئی ضد یا ہٹ تھوڑا ہی ہے ـ ہاں اس کے ساتھ یہ بھی نیت رہی کہ بدوں مسئلے کو سمجھے ہوئے ایک انچ بھی قدم نہ اٹھاؤں گا ـ دوسرے یہ ہے کہ مصالح وغیرہ کو