محسن کھودیا ہے ۔ حضرت خانؒ کے اگر اوصاف کو شمار کیا جائے تو سینکڑوں صفحات سیاہ ہوجائیں گے ۔ انہوں نے زندگی کے ہر شعبے میں مثال قائم کی۔ سماجی ، صحافتی ، سیاسی خدمات میں ، ان کا کوئی ثانی نہیں ملے گا۔ آپ جب رکن راجیہ سبھا تھے جو اپنی ریاست سے جب کوئی دلی جاتا تو خان صاحب ؒ بنگلور سے فون کرکے وہاں کہہ دیتے کہ اپنی ریاست کا آدمی آرہا ہے ، اس کی ہر طرح سے مہمان نوازی کرنا۔ اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ۔
راقم الحروف اپنے عزیز کے ہمراہ ایک مرتبہ خان صاحبؒ کی خدمت میں روزنامہ سالار کے دفتر حاضر ہوا ، ہم دونوں کے پاس اپنے اپنے مضامین تھے ، الیکشن کا زمانہ تھا ، اخبار میں جگہ کی قلت تھی ، مگر آپ نے بڑی ہی حکمت سے کام لیا ، ہم دونوں کا دل رکھتے ہوئے فرمایا ، دونوں مضامین کی تو گنجائش نہیں ، دونوں میں سے ایک آپ دونوں ہی طے کرلیں ، انشاء اللہ میں شائع کرادوں گا، پھر آپ نے ایک مضمون شائع فرمادیا۔
قحط الرجال کے اس دور میں جب کہ رسوخ فی العلم کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رکھنے والے حضرات ناپید ہورہے ہیں ، جناب مقصود علی خان صاحب کی حیثیت یقینا ایک چراغ کی سی تھی۔جس کے تصور سے بھی دل کو اطمینان اور تسلی کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔ افسوس کہ یہ چراغ گل ہوگیا اور ملتِ اسلامیہ اپنے ایک عظیم علمی ومعلوماتی سہارے سے محروم ہوگئی۔ یہ حقیقت ہے کہ خان صاحبؒ کی شخصیت میں علم ومعلومات کا ایک خزانہ اور آگہی کا ایک بحرِ بیکراں موجزن تھا۔ آپ کے وسعتِ مطالعہ اور تاریخ پر گہری نظر اور واقفیت اور حالاتِ حاضرہ پر عمیق نظر اور آپ کے اوصاف وکمالات کا ٹھیک ٹھیک ادراک بھی ہم جیسوں کے لیے مشکل ہے ۔ساتھ ہی ساتھ جناب خان صاحبؒ کے پیکر