ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
جو سلطان دیدہ آنکھیں رکھتا ہے، جو بادشاہ کی کلائی پر بیٹھتا ہے اس کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ایسی گھٹیا حرکت کرتا ہے، جو ہر وقت اس ماحول میں رہتا ہے جہاں ہر وقت ذکر اﷲ ہے، اﷲ والوں کا ماحول ہے وہ گوبھرے ہوئے جسموں کی چمک دمک سے دھوکا کھاتا ہے۔ لیکن عقل مند کہے گا کہ اس کے نیچے انگلی ڈال کر چاٹو تو ہم جانیں۔ پیچھے سے پاخانہ ہی نکلے گا، مشک و زعفران نہیں نکلے گا اور آگے سے کیوڑہ و گلاب نہیں نکلے گا، بدبودار پیشاب ہی نکلے گا۔ میرا شعر ہے ؎ آگے سے مُوت پیچھے سے گُو اے میر جلدی سے کر آخ تھو فرینکفرٹ ایئرپورٹ جرمنی میں ایک لڑکی ایئرپورٹ کی ملازمہ دو دھاری تلوار چلاتی تھی، آگے کی تلوار اور پیچھے کی تلوار جس سے ہمارے بعض ساتھی بہت پریشان ہوئے اور مجھ سے کہا کہ یہ لڑکی تو پاگل کردے گی۔ میں نے کہا کہ اس کو بالکل نہ دیکھو ، نظر بچاؤ اور پھر میرا یہ شعر پڑھو جو فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر اسی وقت ہوا ؎ آگے سے مُوت پیچھے سے گُو اے میر جلدی سے کر آخ تھو اﷲ تعالیٰ کے رسولِ پاک صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت جب آتی ہے تو ایک شیطان اس کے سامنے ہوتا ہے اور جب جاتی ہے تو ایک شیطان اس کے پیچھے ہوتا ہے۔ وہ شیطان بلاتا ہے کہ آؤ مولوی صاحب، صوفی صاحب، عارف باﷲ صاحب اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں گھس جاؤ، بہت مزہ آئے گا لیکن جس پر اﷲ کا فضل ہوتا ہے وہی بچتا ہے۔ اس کے سامنے ان کا گو موت ہوتا ہے، وہ پوسٹ مارٹم کرتا ہے کہ اے بدمعاشو! کم بختو! زیادہ نہیں ایک تولہ گونکا لو اور پھر سونگھو اور منہ میں رکھو پھر کہو کہ واہ واہ کیا حلوہ ہے۔ پیشاب پاخانہ پر چاندی کا ورق لگادیا ہے جس پر بے وقوف لوگ للچا رہے ہیں۔ (حضرت والا کے خلیفہ شیخ الحدیث مولانا منصور الحق صاحب نے عرض کیا کہ حضرت میرے خیال میں آپ کے فرینکفرٹ والے شعر سے زیادہ ہمارے تزکیہ کے لیے اور اس بیماری سے بچانے کے لیے کوئی دوا مؤثر نہیں ہوسکتی۔ حسنِ فانی کے سحر سے بچانے کا یہ شعر بہترین علاج ہے ؎