ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
اپنے خدّام کے ساتھ حضرت والا کی محبت و شفقت پھر مولانا منصور الحق صاحب سے پڑھنے کے لیے فرمایا اور نہایت محبت اور رِقَّت کے ساتھ فرمایا کہ اگر میں نواب ہوتاتو کوئی ریاست آپ کے نام لکھ دیتا کہ سب چھوڑو میرے ساتھ رہو لیکن کیا کریں اﷲ تعالیٰ غیب سے کوئی سامان ان کا کردیں تو یہ ہمارے لیے بہت ضروری ہیں ( تمام احباب نے آمین کہا)پہلے زمانہ میں نواب لوگ شاعروں کو کچھ گاؤں لکھ دیتے تھے کہ یہ تمہاراہے، شاعروں کے مزے آجاتے تھے۔ اب تو ریاستیں بھی ختم ہوگئیں مگر اﷲ کی قدرت بہت بڑی ہے (رقت آمیز آواز میں فرمایا کہ) وہ چاہیں تو اپنی رحمت سے کوئی انتظام غیب سے فرمادیں۔حسنِ مجازی کی گندگی کا پوسٹ مارٹم پھر مولانا منصور صاحب سے فرمایا کہ پڑھیے۔ مولانا نے یہ شعر پڑھا ؎ جو حسنِ مجازی سے کنارا نہیں کرتا وہ عشقِ خدا کے لیے پاتا نہیں پَرمِٹ حضرت والا نے فرمایا کہ کیا عمدہ شعر ہے، زبردست شعر ہے اور فرمایا کہ یہ زندگی ایک ہی دفعہ ملی ہے، اگر اس کو بد نظری اور حسنِ مجاز میں ضایع کردیا تو حسنِ مجاز کے پاس کیا ہے۔ اگر ان کی ریسرچ کیجیے تو پیٹ میں پاخانہ ہے، پیشاب ہے اور ریاح ہے یعنی بدبو دار ہَوا۔ یہ تین ملک ہیں ان حسینوں کے پاس۔ ان تینوں ملکوں کے علاوہ چوتھا ملک نہیں ہے اور پھر چند سال کے بعد وہی شکل ایسی بُری ہوجاتی ہے، ایسی بدل جاتی ہے کہ اس کو دیکھ کر شرم آتی ہے کہ میں نے کہاں زندگی کو ضایع کیا۔ پانچ سال میں تو حکومتیں بدل جاتی ہیں۔ حسن کی حکومت بھی پانچ سال کے بعد بدل جاتی ہے۔ مولانا یونس پٹیل صاحب نے عرض کیا کہ ہم حضرت والا کے ارشادات سناتے رہتے ہیں تو ایک شخص نے کہا کہ بیوی کے پاس بھی تو یہی تین ملک ہیں؟ فرمایا کہ وہ حلال ہے اسی لیے حلال کو حلال کرتے ہیں اور جب تک بیوی نہیں ملی تھی تب تک صبر کرتے تھے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں: