ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
آگے سے مُوت پیچھے سے گو اے میر جلدی سے کر آخ تھو اس شعر سے بڑھ کر کوئی علاج نہیں۔) حضرت والا نے ارشاد فرمایا کہ یہ شعر پڑھنے کا فائدہ جب ہوگا جب نظر بچا کر یہ شعر پڑھو یا سوچو۔ نظر سے نظر ملاکر اگرسوچو گے تو سوچنے کی سوئچ فیل ہو جائے گی۔ نظر سے نظر ملی کہ پاگل بنا، جادو ہوگیا اس پر، اﷲ تعالیٰ نے ایسے ہی تھوڑی فرمایا قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِہِمْ، اے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم! آپ ایمان والوں سے فرمادیجیے کہ نظر سے نظر کو ٹچ نہ ہونے دیں، نظر سے نظر ملے گی تو جادو ہو جائے گا اور دونوں مقناطیس آپس میں لڑ جائیں گے، ایک دوسرے میں گھس جائیں گے، اﷲ تعالیٰ خالق ہیں مقناطیس کے، وہ جانتے ہیں کہ ہمارے بندے پاگل اور دیوانے بن جائیں گے، وہ اپنے خاص بندوں کو پاگل کرنا نہیں چاہتے اس لیے غضِ بصر کا حکم نازل کردیا کہ پاگل نہ بنو، عقل بڑی نعمت ہے، عقل رہے گی تو سب کچھ ہے ورنہ پاگل کو نہیں دیکھتے ہو کہ وہ گندی نالی میں پیشاب پی لیتا ہے، پاخانہ کھاتا ہے، تو حسینوں کو دیکھنے سے عقل خراب ہو جائے گی اور پیشاب پاخانہ کی جگہ اس کو محبوب معلوم ہوگی۔ اگر نظر سے نظر مل گئی تو پاگل ہو جاؤ گے ؎ نظر نظر سے جو ٹکرا گئی تو کیا ہوگا پھر یہ ہوگا کہ انتہائی نفرت کی جگہ، پیشاب پاخانہ کی جگہ عزیز تر ہو جائے گی، بس اس لیے بتا دیا کہ قبل اس کے کہ منہ کالا ہو، قبل اس کے کہ پیشاب پاخانہ کے مقامات میں گھسو اﷲ کے لیے اپنی جانوں پر رحم کرو اور دوسروں پر بھی رحم کرو کیوں کہ جو آدمی خود بچے گا وہ بچائے گا بھی، جو بچے گا نہیں وہ کیا بچائے گا۔ جو حلاوتِ ایمانی کھاتا ہے وہ اکیلے نہیں کھاتا ،جماعت سے کھاتا ہے، تو اس کی تقریر میں اثر بھی ہوتا ہے۔ ایک جماعت کی جماعت اس کے ذریعہ اﷲ والوں کی پیدا ہوتی ہے اور جو منہ کالا کرتا ہے وہ مردود، کمبخت، سور ،کتا ہے، اس کو کیا پوچھتے ہو، وہ انسان ہے؟ مقام پلید اور لید بدمعاش آدمی کی عید ہے۔ اﷲ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے، دیکھو جس کو نگاہ بچانے کی توفیق ہو اس کے اوپر بہت بڑا رحم ہوگیا کہ حلاوتِ ایمانی اس کے نصیب میں آگئی، ورنہ ساتھ نہ رہو کہ ہم