ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
نگاہوں کی حفاظت کی توفیق! جس کو بڑی خوشی ملنی ہوتی ہے اسی کو توفیق ہوتی ہے چھوٹی خوشی قربان کر دینے کی۔ جس کے نصیب اچھے ہوتے ہیں اسی کو یہ عالی ہمتی اور عالی حوصلگی عطا ہوتی ہے کہ وہ نگاہ نیچی کرلیتا ہے، کسی نامحرم کو نہیں دیکھتا۔ ایسی بے وقوفی کی حرکت سے اﷲ تعالیٰ اس کو محفوظ رکھتے ہیں، اس کو عقل مند بنا دیتے ہیں، وہ جانتا ہے کہ ان کو دیکھنے سے کچھ نہیں ملے گا، اﷲ چھوٹ جائے گا ،دور ہو جائے گا، ناراض ہو جائے گا، وہ اپنی حرام خواہشات پر شیرکی طرح حملہ کرتا ہے اور ان کا خون پی لیتا ہے اور جس طرح خون پینے کی علامت یہ ہوتی ہے کہ ہرن گر جاتا ہے، اس میں کھڑے رہنے کی طاقت نہیں رہتی۔ اسی طرح جو اپنے حرام ارمانوں کا خون پی لیتا ہے تو اس کے ارمان گرجاتے ہیں، مضمحل ہو جاتے ہیں اور وہ ان پر غالب آجاتا ہے لیکن یہ خوش نصیب لوگوں کا مقام ہے لیکن اپنے کمینہ پن اور دناء ت ِطبع سے جس کا نصیب خراب ہے وہ گو موت ہی میں پڑا رہتا ہے، پیشاب پاخانے کے مقام کو چاٹتا رہتا ہے اور اس کو سمجھتا ہے کہ واہ واہ کیا کمال ہے، کیا اس کے ہونٹ ہیں ،کیسے بال ہیں،کیسے گال ہیں حالاں کہ جو گال کو دیکھتا ہے گالی پاتا ہے۔ اﷲ کا بہت بڑا فضل ہے اس بندہ پر جس کو اﷲ حفاظتِ نظر کی توفیق دے دے اور نظر ڈال کر دل کو للچانا، کلپانا، تڑپانا بے وقوفی ہے۔ جس کے لیے آج تڑپ رہے ہیں یہی کل جب ساٹھ برس کی بڑھیا بن کر آئے گی اور لڑکا نانا ابّا بن کر آئے گا تب اس کے لیے تڑپو گے؟ تب اس سے کہو گے کہ جوانی میں ہم تمہارے لیے تڑپا کرتے تھے؟ سور اور کتّے سے بدتر ہے وہ شخص جو عارضی حسن پر مرتا ہے، انتہائی احمق اور کمینہ ہے، بے غیرت ہے، جوتے مارنے کے قابل ہے۔ فساق ہی مجاز کے عاشق ہوتے ہیں، آج کوئی لڑکی اگر ان کے سامنے اپنی دبر یعنی پچھلا حصہ ہلا دے تو ان کو انزال ہو جاتا ہے۔ دنیا کے کافر چاہے گو موت کھائیں مگر مسلمان کو کیا ہوگیا ہے کہ دنیائے مردار پر مررہا ہے۔ مولانا روم شاہ ِخوارزم کا سگا نواسہ شیخ التفسیر والحدیث امام الاولیاء فرماتے ہیں ؎ گر خفاشے رفت در کور و کبود بازِ سلطاں دیدہ را بارے چہ بود اگر چمگادڑ پیشاب پاخانہ کی نالیاں چاٹ رہا ہے تو تعجب کی بات نہیں لیکن آہ! وہ باز ِشاہی