ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
نہیں تھا۔انسان کے کمالات کیا ہیں سارے کمالات اللہ کے لیے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ؎حمد کی چار تعریفیں ہو سکتی ہیں۔اب منطق سن لیجیے۔ تعریف کی چار قسمیں ہیں: نمبر۱۔ بندہ بندے کی تعریف کرے۔نمبر۲۔ بندہ اللہ کی تعریف کرے۔ نمبر۳۔اللہ بندے کی تعریف کرے۔ نمبر۴۔اللہ خود اپنی تعریف کرے اور یہ چاروں تعریفیں اﷲ ہی کے لیے خاص ہیں، ان چار کے علاوہ کوئی پانچویں قسم نہیں ہے ۔ میں دارالعلوم میں اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی پانچویں قسم ہو تو میرے سامنے پیش کرو، میں وہ جاہل پیر نہیں ہوں کہ مرعوب ہوجاؤں گا۔مومن کے لیے مصیبت کے نافع ہو نے کا منطقی استدلال مفتی محمد حسن امرتسری رحمۃ اللہ علیہ پر معقولات کا غلبہ تھا۔خانقاہ میں قیام کے لیے تھانہ بھون آئے ہوئے تھے کہ گھر سے خط آیا کہ بیوی، بچے سب بیمار ہیں۔ یہ بہت تشویش میں تھے،جا کر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کہ حضرت سارے گھر والے بیما ر ہیں تو حضرت نے فرمایا کہ مفتی صاحب جب مومن کا عقیدہ مقدر پر ہے تو پھر اُسے مکدر ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ؎ لَنَا کا لام یہاں نفع کے لیے ہے، مومن کوجو مصیبت پہنچتی ہے اُس میں مومن ہی کا نفع ہے۔ اس کے بعد حکیم الامت نے مفتی صاحب سے فرمایا کہ چوں کہ آپ منطقی آدمی ہیں اس لیے منطق سے سمجھاتاہوں کہ مومن کو جو تکلیف اللہ دیتا ہے اس میں سراسر مومن کا ہی فائدہ ہے۔ مومن کو جو تکلیف یا بلا اللہ کی طرف سے پہنچتی ہے اس میں صرف چار صورتیں ہیں، چیلنج کرتا ہوں کہ پانچویں کوئی صورت نہیں ہے۔ ۱) مومن کو تکلیف دے کر اللہ سو فیصد فائدہ اُٹھا لیں یہ ناممکن ہے کیوں کہ اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نعوذباللہ بندوں کا محتاج ہے۔ اور چوں کہ اللہ تعالیٰ سارے عالم سے بے نیاز ہے ------------------------------