ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
۲۹؍محرم الحرام ۱۴۲۳ھ مطابق ۱۲؍اپریل ۲۰۰۲ء بروز جمعہ بعد نمازِ فجرایک پارک میں جھیل کے کنارے بعض آدابِ شیخ ایک صاحب جو حضرت والا سے بیعت ہیں مجلس میں تسبیح پڑھ رہے تھے۔ اس وقت ارشاد فرمایا کہ بزرگوں نے لکھا ہے کہ اپنے شیخ کے سامنے تسبیح دِکھا کر نہ پڑھے۔ اگر پڑھنا ہے تو جیب میں تسبیح چھپائے رکھے اور جیب میں ہاتھ ڈال کر پڑھے۔ مگر شیخ کے سامنے تسبیح پڑھنا خلافِ ادب ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ کو تسبیح دِکھا کر پڑھنے کےمعنیٰ یہ ہیں کہ اگر آپ جنید بغدادی ہیں تو میں بھی بابا فرید سے کم نہیں ہوں۔ صورتاً یہ بھی ایک قسم کا تقابل ہے۔ ایک اللہ قبول ہوجائے تو بیڑا پار ہے اور قبولیت کے لیے ادب شرط ہے اور بزرگانِ دین نے جس چیز کو بے ادبی کہا ہے اس کو تسلیم کرنا ضروری ہے کیوں کہ ہم لوگ متبع شریعت اور متبع سنت بزرگوں کے اندھے مقلد ہیں۔ اس لیے وہ لوگ جو مجھ سے بیعت بھی ہیں ان کا میرے سامنے تسبیح پڑھنا غیر افضل ہے، نہ پڑھنا افضل ہے۔ اگر محبت ہو تو محبت کی نظر سے شیخ کو دیکھنا خود عبادت ہے۔ بنگلہ دیش میں ایک عالم نے مجھ سے پوچھا کہ ماں باپ کو محبت سے دیکھنے سے ایک حج کا ثواب ملتا ہے تو شیخ کو دیکھنے سے کیا ملتا ہے؟ میں نے کہا کہ ماں باپ کو دیکھنے سے کعبہ ملتا ہے اور شیخ کو دیکھنے سے کعبہ والا ملتا ہے۔ دلیل یہ ہے کہ کعبہ موجود تھا، زم زم موجود تھا اور مولدِ شریف یعنی آپ کی جائے پیدایش وغیرہ تبرکات موجود تھے لیکن ہجرت کا جب حکم ہوا تو ایک صحابی کو بھی مکہ شریف میں رہ جانے کی اجازت نہیں ملی۔ سب کو حکم ہوا کہ تم سب کے سب جاؤ جہاں میرا نبی جارہا ہے۔ اب کعبہ سے لپٹنا مفید نہیں ہوگا۔ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے تھے۔ کعبہ کو ان بتوں کو نکالنے کی طاقت نہیں تھی، نبی نے وہ بت نکالے۔ تو نبی تمہارے دلوں کے بت بھی نکالے گا یعنی رذائل سے تمہارا تزکیہ کرے گا۔ بس نبی کی صحبت، اﷲ والے کی صحبت جہاں ملے وہاں چلے جاؤ۔ بات یہ