اتارنے کی کوشش کرتے ہیں ، اردو نیوز بھی اسی طرح کی ایک سیاسی چال تھی ، سیاسی کھیل تھا، حکومت نے مسلمانوں کے ووٹ جیتنے کے لیے اردو خبریں شروع کیں ۔ اور اب یہ بھی ستم ظریفی دیکھئے کہ حکومت نے کنڑ نوازوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے اردو نیوز بند کردیا۔ یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ گندی سیاست مفاد پرست ہے ۔ جب نیوز شروع ہوچکے تھے تو پھر بند کرنے کی کیا ضرورت تھی؟۔ اگر آپ کو انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے ہی اتنی ہی چاہت تھی تو آپ اقلیتوں کے مسائل کو حل کرتے اور غریبوں کی مدد کرتے اور یتیموں کی امداد کرتے ۔ نہ جانے کس کی دعا میں اثر ہو اور آپ کا بیڑا پار ہوجائے ۔ اس طرح کے جھوٹے خواب دکھا کر کیوں لڑاتے ہیں ؟؟
پورے فسادات کے بعد جب لاکھوں کی املاک جل کر خاک ہوچکی ہوتی ہے اور بے گناہ معصوموں کی جانیں تلف ہوچکی ہوتی ہیں ، بے قصور افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہسپتالوں میں جاچکے ہوتے ہیں تو اس وقت دواخانوں میں آکر مگر مچھ کے آنسو بہانے سے کیا فائدہ ؟ بہتر تو یہ تھا کہ جب بے گناہوں اور معصوموں کے گھروں کو لوٹا جارہا تھا اس وقت آکر ان کی حفاظت کرتے۔ اب بہتر تو یہی ہے کہ آپ اپنی کرسی کی حفاظت کرنے کے بجائے اپنے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیں ۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب خدا تمہارے اوپر بھی کسی ظالم کو مسلط کردے گا ۔ اس لیے خدا کو حاضر وناظر جانتے ہوئے خلوص دل سے کام کریں ۔ قوم کی خدمت کریں ، ورنہ کل حشر کے میدان میں کیا منہ دکھاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ ہماری قوم کے رہنماؤں کو عقل سلیم عطا فرمائے اور مظلوموں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(مطبوعہ روزنامہ پاسبان 13/10/1994)