نفقہ مہر حسن معاشرت طلاق اور عدت وغیرہ تفصیلات بیان ہوئے وہاں جہیز کا بیان نہ ہوتا ۔
سنن نسائی جلد دوم باب جہاز البنت کے ماتحت آنے والی حدیث سے ’’ مروجہ جہیز ‘‘ کو شرعی حکم سمجھا غلط ہے ۔ بیوی کے جملہ جائز ضروریات اور اخراجات کا شرعاً ذمہ دار خاوند ہے ، فقہ کی مشہور کتاب ہدایہ میں ہے ، بیوی مسلمان ہو یا کتابیہ ، اس کا ہر قسم کا خرچہ خاوند پر واجب ہے ، جب کہ وہ (بیوی) اپنے آپ کو شوہر کے سپرد کردے اور اس کے گھر منتقل ہوجائے ، اس خرچے میں روٹی ، کپڑا اور مکان شامل ہے ۔ اور اس حکم کی بنیاد باری تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ وسعت والے کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے ۔ ظاہر ہے کہ جب رہنے کا مکان خاوند کے ذمہ ہے تو ایک رہنے کے مکان کے لیے جو بھی ضرورت کی چیزیں ہوتی ہیں اور اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اور سونے کے لیے جن چیزوں کا استعمال میں لانا ضروری ہے اور جن کو ہماری اصطلاح میں ’’جہیز‘‘ کہا جاتا ہے ، وہ بھی خاوند ہی کے ذمہ ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک اگرچہ جہیز کے سامان کی تیاری عورت کے ذمہ ہے مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ہے کہ وہ یہ سامان پیشگی رقمِ مہر سے بنائے گی ، نہ کہ اپنے ذاتی مال یا والدین کے مال سے ۔ اگر شوہر کی طرف سے کوئی پیشگی رقم رخصتی سے قبل اس کے پاس نہ بھیجی جائے تو اس پر سامانِ جہیز لازم نہیں ہے ۔ اگر عورت نے پیشگی مہر میں سے کوئی چیز نہ لی ہوتو اس پر جہیز کا سامان مہیاکرنا لازم نہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہم تمام کو جہیز کی لعنت سے بچائے اور مروجہ جہیز کی تمام نحوستوں سے دور رکھے ۔
مبطوعہ روزنامہ سالار 23/10/1998