ہے کہ ایسے پروگراموں کے لیے ہمارے پاس کوئی ’’اردو ہال‘‘ نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں کرناٹک اردو اکاڈمی حکومت کرناٹک کے شعبہ کنڑا اینڈ کلچر کے تحت آتی ہے ، اس لیے یہاں یہ بات بے حد ضروری ہے کہ یہاں ایک علاحدہ اردو ڈائرکٹوریٹ قائم ہوجائے اور اردو کے لیے ایک اردو ہال بھی تعمیر کیا جائے،اگر یہاں ایک اردو ہال تعمیر ہوجائے تو میں سمجھتا ہوں کہ سونے پر سہاگہ ہوجائے گا ۔ ہم ہمدردانِ اردو چاہے تو کیاکچھ نہیں کرسکتے؟؟
دوسری قوموں کے افراد نے اپنی اپنی مادری زبان کے لیے ایک کنڑا بھون (قلبِ شہر ، جے سی روڈ میں ) تعمیر کروالیا۔ اگر مایوس ہوئے ہیں تو صرف ہماری زبان اردو والے ۔ آج تک صرف جگہ کی تلاش میں اپنا وقت ضائع کرتے پھر رہے ہیں ، میری رائے میں اردو ہال کے لیے دارالسلام کوئنس روڈ کے عقبی جانب جو جگہ کئی سالوں سے خالی پڑی ہے ، وہاں تعمیر ہوتو بہتر ہوگا۔ موجودہ کانگریس حکومت میں پانچ مسلم وزراء کا کابینہ میں ہونا ایک تاریخ سے کم نہیں ہے ۔ ایک سے ایک باصلاحیت بھی ہیں اور مسلم ایم ایل اے حضرات کی توجہ اردو ہال کی طرف ہوجائے ، تویہ بھی ایک تاریخ بن جائے گی۔
امید کہ مسلم وزراء اس طرف توجہ دیں گے اور عازمین حج سے دوبارہ پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ حضرات اپنے مخصوص دعاؤں میں شہرمیں ایک خوبصورت اردو ہال کے لیے ضرور دعا کریں ۔ نیز اپنی دعاؤں میں سارے عالم میں امن وسلامتی اور مسلمانوں کی حفاظت کے لیے بھی دعا کریں اور سارے مسلمانوں کی طرف سے روضہ اقدس پر سلام سنائیں ۔ اللہ تعالیٰ تمام عازمین حج کو حجِ مبرور ومقبول عطافرمائے ، اور ان کی دعاؤں میں ہم سب کا حصہ نصیب فرمائے ۔
(مطبوعہ روزنامہ سالار 08/02/2001)