ارشادات درد دل |
ہم نوٹ : |
|
صحت و عافیت کے ساتھ ایک سو بیس سال تک سلامت رکھے آمین۔ جامع) آج جنوبی افریقہ واپسی کا دن تھا۔ ساڑھے گیارہ بجے حضرت والا کے ہمراہ جملہ احباب ایئرپورٹ روانہ ہوئے۔ ڈیڑھ بجے جہاز کی روانگی کا وقت تھا۔ پونے چار بجے شام جوہانسبرگ ایئرپورٹ پر آمد ہوئی اور وہاں سے مفتی حسین بھیات صاحب کے مکان لینیشیا پہنچے۔ ۱۸ ؍ صفر المظفر ۱۴۲۳ھ مطابق ۳۰؍ اپریل ۲۰۰۲ء بروز منگل زمبیا سے واپسی کے بعد دارالعلوم زکریا کے مہتمم حضرت مولانا شبیر صالح جی نے حضرت والا سے درخواست کی تھی کہ حضرت والا کچھ دیر کے لیے دارالعلوم تشریف لائیں اورطلباء کو نصیحت فرمائیں۔ چناں چہ مغرب کے بعد حضرت والا دارالعلوم تشریف لے گئے اور خطبۂمسنونہ پڑھ کر وعظ فرمایا جو یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ؎ اﷲ تعالیٰ ار شاد فرما تے ہیں کہ یہ قرآن میں نے نازل کیا ہے وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ اور اس کی حفاظت بھی میرے ذمہ ہے۔ علامہ آلوسی السید محمود بغدادی مفتی بغداد لکھتے ہیں کہ قرآن شریف کی حفاظت اﷲ نے اپنے ذمہ لی ہے، سابقہ آسمانی کتابوں کی حفاظت اس وقت کے علماء کے سپرد کی گئی تھی تو وہ ایک آدھ پشت تو صحیح پڑھتے رہے مگر اس کے بعد پھر ملاوٹ شروع کردی توریت، زبور اور انجیل میں تحریف کردی کیوں کہ ان کتابوں کی حفاظت کا اﷲ تعالیٰ نے کوئی ذمہ نہیں لیا تھا اس لیے ان کتابوں کا کوئی حافظ بھی نہ تھا اور قرآن پاک کے تو چھوٹے چھوٹے بچے حافظ ہیں۔ اگر مصر کا کوئی بڑا قاری ایک نقطہ تبدیل کردے حَتّٰی اَنَّ الشَّیْخَ الْمُہِیْبَ لَوْ غَیَّرَ نُقْطَۃً یَرُدُّ عَلَیْہِ الصِّبْیَانُتو ہمارا نو سال کا بچہ اس کو ٹوک دے گا اَنْتَ اَخْطَأْتَ یَا شَیْخُ کہ شیخ آپ نے یہاں غلطی کردی۔ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ اب سوال یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ واحد ہیں لیکن جمع کا صیغہ کیوں نازل ------------------------------