اجرائے بلاغت قرآنیہ مع بدیع القرآن |
ہ علم وک |
|
نسبت -بجائے فاعلِ حقیقی كے- اس كے مقربین كی طرف كرنا، جیسے: ﴿قَالُوْا إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلیٰ قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَ... إِلاَّ امْرَأَتَهُ قَدَّرْنَآ إِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴾۱ [الحجر:۶۰]. ملحوظه: نسبت اضافیه میں بھی كبھی مجاز هوتا هے، جیسے: ﴿بَلْ مَكْرُ اللَّیْلِ وَالنَّهَارِ﴾۲ [سبأ:۳۳]. فائده: مجاز عقلی اور مجازِ لغوی میں فرق یه هے كه: مسند ومسند الیه كے درمیان هونے والی نسبت میں مجاز كو ’’مجازِ عقلی‘‘ كهتے هیں اور یه اجزائے كلام كے درمیان ربط وتعلق سے وابسته هے؛ جب كه مجازِ لغوی كلمات (مفردات) سے متعلق هوتا هے؛ لهٰذا أنْبَتَ الرَّبِیْعُ میں نه لفظ أنبت میں مجاز هے اور نه هی الربیع میں هے؛ بلكه أنبت كی الربیع كی طرف هونے والی نسبت میں مجاز هے۔ جب كه رَأیْتُ أسَدًا یَتَكَلَّمُ میں لفظ أسد میں مجاز هے اس طور پر كه اس كو حیوان مفترس سے منقول كر كے رجل شجاع كے لیے استعمال كیا گیا هے۔ (علم المعانی) ۱یهاں تقدیركی نسبت ملائكه نے اپنی طرف كی هے؛ حالاں كه مقدِّر صرف الله تعالیٰ هی هے۔ (علم المعانی) ۲یهاں تقدیری عبارت یه هے: ’’بلْ مَكْر النَّاسِ فِيْ اللَّیْل والنَّهَارِ‘‘؛ یعنی مكر كے مناسب تو یه تھا كه اس كی اضافت الناس كی طرف كریں ؛ لیكن لیل ونهار چوں كه مكر كرنے كا زمانه هے؛ لهٰذا اس كی طرف اضافت كرلی هے۔