اس حیرت انگیز واقعہ کو پروفیسر ونسنک نے اپنی کتاب موسومہ ’’احادیث میں ربط‘‘ میں نمایاں کیا ہے۔ یہ کتاب احادیث کے گیارہ مجموعوں اور اسلام کے تین اوّلین تاریخی شواہد پر حاوی ہے اور یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ اسلام نے اس اصطلاح کو کیوں استعمال نہ کیا؟ یہ اصطلاح انہیں غالباً اس لئے ناگوار تھی کہ اس سے تاریخی عمل کا غلط نظریہ قائم ہوتا تھا۔ خاکی ذہن وقت کو مدور حرکت تصور کرتا تھا۔ صحیح تاریخ عمل کو بحیثیت ایک تخلیقی حرکت کے ظاہر کرنے کی سعادت عظیم مسلمان مفکر اور مؤرخ یعنی ابن خلدون کے حصہ میں تھی۔
ہندی مسلمانوں نے قادیانی تحریک کے خلاف جس شدت احساس کا ثبوت دیا ہے وہ جدید اجتماعیات کے طالب علم کے لئے بالکل واضح ہے۔ عام مسلمان جسے پچھلے دن سول اینڈ ملٹری گزٹ میں ایک صاحب نے ملّازدہ کا خطاب دیا تھا اس تحریک کے مقابلہ میں حفظ نفس کا ثبوت دے رہا ہے۔ اگرچہ اسے ختم نبوت کے عقیدہ کی پوری سمجھ نہیں۔ نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے ختم نبوت کے تمدنی پہلو پر کبھی غور نہیں اور مغربیت کی ہوا نے اسے حفظ نفس کے جذبہ سے باہمی عاری کر دیا۔ بعض ایسے ہی نام نہاد تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اپنے مسلمان بھائیوں کو رواداری کا مشورہ دیا ہے۔ اگر سر ہربرٹ ایمرسن مسلمانوں کو رواداری کا مشورہ دیں تو میں انہیں معذور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ موجودہ زمانے کے ایک فرنگی کے لئے جس نے بالکل مختلف تمدن میں پرورش پائی ہو اس کے لئے اتنی گہری نظر پیدا کرنی دشوار ہے کہ وہ ایک مختلف تمدن رکھنے والی جماعت کے اہم مسائل کو سمجھ سکے۔
ہندوستان میں حالات بہت غیرمعمولی ہیں۔ا س ملک کی بے شمار مذہبی جماعتوں کی بقاء اپنے استحکام کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیونکہ جو مغربی قوم یہاں حکمران ہے اس کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ مذہب کے معاملہ میں عدم مداخلت سے کام لے۔ اس پالیسی نے ہندوستان ایسے ملک پر بدقسمتی سے بہت برا اثر ڈالا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ مسلم جماعت کا استحکام اس سے کہیں کم ہے۔ جتنا حضرت مسیح کے زمانہ میں یہودی جماعت کا رومن کے تحت تھا۔ ہندوستان میں کوئی مذہبی سٹے باز اپنی اغراض کے ماتحت ایک نئی جماعت کھڑی کر سکتا ہے اور یہ لبرل حکومت اصل جماعت کی وحدت کی ذرہ بھر پرواہ نہیں کرتی۔ بشرطیکہ یہ مدعی اسے اپنے اطاعت اور وفاداری کا یقین دلا دے اور اس کے پیرو حکومت کے محصول ادا کرتے رہیں۔