کے لئے آٹھ سو سال تک شمشیر بکف پھرتے رہے اور پھر چار دانگ عالم میں خدمت اسلام کے لئے اپنا خون بہاکر حضور رسالت مآبﷺ کی روح مبارک کی خوشنودی سے فیض یاب ہوتے رہے۔ اس لئے تمہیں بھی چاہئے، کہ اسلام کی عزت کو برقرار رکھنے کے لئے تم بھی اپنے ابائو اجداد کے نقش قدم پر گامزن رہو اور ملت اسلام کی ناموس کی حفاظت کو فرض جانتے ہوئے اس فرض کی بجا آوری میں بالکل کوتاہی نہ کرو اور اسلام کے خلاف خرافات بکنے والوں کو عبرتناک سزا دے کر برادران اسلام کو اس روحانی عذاب سے نجات دو۔ جس میں وہ مدت سے مبتلا چلے آتے ہیں۔ تم پر لازم ہے کہ تم اپنے مصیبت زدہ بھائیوں کی مدد کرو اور غیر مسلم اقوام کے مقابلہ میں انہیں سربلند کرکے دنیا پر عیاں کردو کہ تمام مسلمان ایک عالمگیر اخوت کے رشتے میں منسلک ہیں۔
میں تمہارا مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے درخواست کرتا ہوں کہ تم قرآن پاک کی تعلیمات کے مطابق اپنے محکوم لیکن مسلمان بھائیوں کے متعلق دل میں کوئی ایسا خیال نہ لائو۔ جو بغض وعداوت پر مبنی ہو۔ پرانے واقعات کو بھول جائو۔ اور ان لوگوں کو جو توحید باری تعالیٰ، رسالت محمد رسول اﷲﷺ اورقرآن کریم کی حقانیت پر ایمان رکھتے ہیں۔ بلاتخصیص رنگ ونسب اپنے بھائی سمجھو۔ ان کے غم کو اپنا غم اور ان کی مسرت کو اپنی مسرت سمجھو۔ اس میں شک نہیں کہ تمہارے محکوم بھائیوں نے محکومیت کی مجبوریوں کے ماتحت ایک بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا۔ لیکن یقین جانو کہ وہ اپنی اس حرکت سے نادم ہیں۔ تمہیں خدا نے روئے زمین کے مسلمانوں پر فوقیت دی ہے۔ اور یہ سب خدائے تعالیٰ کا فضل ہے۔
قادیانی دجل کی حقیقت
میرے غیور بھائیو! آج میں تمہارے ساتھ فرقہ مرزائیہ کے دجال کا تار پود بکھیرنا چاہتا ہوں۔ اس فرقہ کی ابتداء ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان سے ہوئی تھی۔
آج سے چند سال قبل مرزا غلام احمد نامی ایک آدمی نے اپنے نبی اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اور اپنی فریب کاریوں سے اس نے ایسا اثر پیدا کیا کہ معدودے چند احمقوں نے اس کی بیعت کرلی۔ اور اس کی نبوت کا اقرار کرلیا۔ (اس وقت حاضرین میں سے کسی نے مرزا غلام احمد کی لیاقت اور اس کی اقتدار کے متعلق سوال کیا۔) مقرر نے جواب دیا کہ مرزا مذکور سرکاری دفتر میں معمولی اہلکار تھا۔ لیکن ر فتہ رفتہ اپنی شاطرانہ چالوں اور فوق العادت غباوت فطری کی وجہ سے ’’نبی‘‘ کے رتبہ تک جا پہنچا۔ اس نے اپنی گردوپیش کا سہ لیسوں کا ایک حلقہ جمع کرلیا تھا۔ جو اس کی تائید وحمایت میں مضامین لکھتا۔ اور اس کی تالیفات کی تعریف میں رطب اللسان رہتا۔ اس نے