پکڑا جاتا وہ مرزاقادیانی کو کسی حال میں کافر تو کہہ نہیں سکتا تھا۔ اگر مسلمان کہتا تو اس پر بھی اس کی گرفت ہوتی کہ جو شخص مدعی نبوت ہو وہ کسی حال میں مسلمان نہیں رہ سکتا۔ ایسے آدمی کو مسلمان سمجھنا خود کفر ہے۔ میں اس سے یہی سوال کرتا اور انشاء اﷲ! اسی ایک سوال پر وہ لاجواب ہوجاتا اور اس کا راز فاش ہو جاتا۔ یہ سوال آپ لوگوں کے ذہن میں نہیں آیا۔ اس لئے آپ لوگ پریشان رہے۔
(نوٹ: ماہنامہ دارالعلوم دیوبند کے ختم نبوت نمبر میں ’’مرزاغلام احمد قادیانی کے تیس جھوٹ‘‘ عنوان کا مضمون تھا وہ چونکہ تحفہ قادیانیت میں چھپ چکا ہے۔ لہٰذا یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)
مرزاغلام احمد قادیانی کے تیس جھوٹ
از:مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی
بسم اﷲ الرحمن الرحیم!
’’الحمدﷲ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ‘‘
مرزاغلام احمدقادیانی کے دعوؤں کی علمائے امت نے ہر پہلو سے قلعی کھول دی ہے اور کوئی پہلو تشنہ نہیں چھوڑا۔ انبیاء کرام علیہم السلام اور ان کے سچے وارثوں کا بنیادی وصف صدق وراست گفتاری ہے۔ نبی کی زبان پر کبھی خلاف واقعہ بات آہی نہیں سکتی اور جو شخص جھوٹ کا عادی ہو وہ نبی تو کجا ایک شریف آدمی کہلانے کا بھی مستحق نہیں۔
جو لوگ نبی ورسالت یا مجددیت ومہدویت کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں حق تعالیٰ ان کی ذلت ورسوائی کے لئے ان کا جھوٹ خود ان ہی کی زبان سے کھول دیتے ہیں۔ شیخ علی قاریؒ شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں: ’’مامن احد ادعی النبوۃ من الکذابین الاوقد ظہر علیہ من الجہل والکذب لمن لہ ادنیٰ تمیز بل وقد قیل ما اسراحد سریرہ الااظہر اﷲ علیٰ صفحات وجہہ وفلمات لسانہ (ص۷۳)‘‘ جھوٹے لوگوں میں سے جس نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اﷲتعالیٰ نے معمولی عقل وتمیز کے شخص پر بھی اس کا جہل وکذب واضح کر دیا۔ بلکہ کہاگیا ہے کہ جس نے بھی اپنے دل میں کوئی بات چھپائی اﷲتعالیٰ نے اس کے چہرے پر اور زبان کی گفتگو میں اس کو ظاہر کر کے چھوڑا۔