اسلام کے حق میں اس پالیسی کا مطلب ہمارے شاعر عظیم اکبر نے اچھی طرح بھانپ لیا تھا۔ جب اس نے اپنے مزاحیہ انداز میں کہا ؎
گورنمنٹ کی خیر یارو مناؤ
انالحق کہو اور پھانسی نہ پاؤ
میں قدامت پسند ہندوؤں کے اس مطالبہ کے لئے پوری ہمدردی رکھتا ہوں جو انہوں نے نئے دستور میں مذہبی مصلحین کے خلاف پیش کی ہے۔ یقینا یہ مطالبہ مسلمانوں کی طرف سے پہلے ہونا چاہئے تھا جو ہندوؤں کے برعکس اپنے اجتماعی نظام میں نسلی تخیل کو دخل نہیں دیتے۔ حکومت کو موجودہ صورت حالات پر غور کرنا چاہئے اور اس اہم معاملہ میں جو قوی وحدت کے لئے اشد اہم ہے عام مسلمان کی ذہنیت کا اندازہ لگانا چاہئے۔ اگر کسی قوم کی وحدت خطرے میں ہو تو اس کے سوا چارۂ کار نہیں رہتا کہ وہ معاندانہ قوتوں کے خلاف اپنی مدافعت کرے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدافعت کا کیا طریقہ ہے؟ اور وہ طریقہ یہی ہے کہ اصل جماعت جس شخص کو تلعب بالدین کرتے پائے اس کے دعاوی کو تحریر اور تقریر کے ذریعہ سے جھٹلایا جائے۔ پھر کیا یہ مناسب ہے کہ اصل جماعت کو رواداری کی تلقین کی جائے۔ حالانکہ اس کی وحدت خطرہ میں ہو اور باغی گروہ کو تبلیغ کی پوری اجازت ہو۔ اگرچہ وہ تبلیغ جھوٹ اور دشنام سے لبریز ہو۔
اگر کوئی گردہ جو اصل جماعت کے نقطۂ نظر سے باغی ہے حکومت کے لئے مفید ہے تو حکومت اس کی خدمات کا صلہ دینے کی پوری طرح مجاز ہے۔ دوسری جماعتوں کو اس سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ توقع رکھنی بیکار ہے کہ خود جماعت ایسی قوتوں کو نظرانداز کر دے جو اس کے اجتماعی وجود کے لئے خطرہ ہیں۔ اس مقام پر یہ دہرانے کی غالباً ضرورت نہیں کہ مسلمانوں کے بے شمار مذہبی فرقوں کے مذہبی تنازعوں کا ان بنیادی مسائل پر کچھ اثر نہیں پڑتا جن مسائل پر سب فرقے متفق ہیں۔ اگرچہ وہ ایک دوسرے پر الحاد کا فتویٰ ہی دیتے ہیں۔
ایک اور چیز بھی حکومت کی خاص توجہ کی محتاج ہے۔ ہندوستان میں مذہبی مدعیوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مذہب سے عموماً بیزار ہونے لگتے ہیں اور بالآخر مذہب کے اہم عنصر کو ہی اپنی زندگی سے علیحدہ کر دیتے ہیں۔ ہندوستانی دماغ ایسی صورت میں مذہب کی جگہ کوئی اور بدل پیدا کرے گا جس کی شکل روس کی دہری مادیت سے ملتی جلتی ہوگی۔
(حرف اقبالؒ ص۱۲۱تا۱۲۷)