۱۲… سنڈیمن میں کیا ہوا؟: جولائی ۱۹۷۳ء میں فورٹ سنڈیمن میں قادیانیوں نے اپنا محرف ترجمہ قرآن تقسیم کیا۔ تب حضرت مولانا شمس الدین شہید اور آپ کے گرامی قدر رفقاء حضرت صوفی محمد علی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وحضرت حاجی محمد عمر خان صدر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے قادیانی سازش کے خلاف تحریک چلائی۔ جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کا قانونی طور پر ضلع ژوب میں ہمیشہ کے لئے داخلہ بند کر دیا گیا۔ اس تحریک میں علماء اہل اسلام نے کیا کیا قربانیاں دیں اس کی روئیداد اس زمانہ میں ستمبر ۱۹۷۳ء کے ہفت روزہ زندگی لاہور میں جناب مختار حسن نے شائع کی تھی جسے بعد میں ادارہ ضیاء الحدیث مصطفیٰ لاہور نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا تھا۔ اتنے عرصہ بعد اس کی اشاعت پر اﷲتعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں۔ فلحمدﷲ!
۱۳… اسلام میں عقیدہ ختم نبوت: جمعیت علماء اسلام کی حکومت سرحد میں وزارت مذہبی امور نے پشاور میں دوروزہ علماء کنونشن کا اہتمام کیا۔ ۶؍جون ۱۹۸۱ء کو کنونشن میں حضرت مولانا فضل حق صاحبؒ نے یہ مقالہ پیش فرمایا جسے بعد میں پمفلٹ کی شکل میں مجلس تحفظ ختم نبوت پشاور نے شائع کیا اس جلد میں اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔ فلحمدﷲ!
۱۴… امت مرزائیہ کی غلط بیانیوں کا جواب: ۱۹۷۳ء میں جناب میجر محمد ایوب صاحب ممبر آزاد کشمیر اسمبلی نے آزادکشمیر اسمبلی میں قادیانیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کی جو باالاتفاق منظور کر لی گئی۔ اس سے قادیانی ایسے حواس باختہ ہوئے کہ الامان۔ قرارداد کیا منظور ہوئی گویا قادیانیوں کے پاؤں کے نیچے آگ جلا دی گئی۔ اس زمانہ میں اس قرارداد کے خلاف قادیانی جماعت کشمیر کے امیر منظور احمد ایڈووکیٹ قادیانی نے پمفلٹ لکھا جس کے جواب میں حضرت مولانا سعید الرحمن علوی مرحوم جو ان دنوں مجلس تحفظ ختم نبوت اٹک کے امیر تھے اور حضرو میں خطیب تھے۔ آپ نے قلم اٹھایا اور یہ پمفلٹ تحریر کر دیا۔ اس رسالہ کو اس جلد میں محفوظ کرنے پر اﷲ رب العزت کا شکرادا کرتا ہوں۔
(اس قرارداد کے خلاف مرزاناصر نے ربوہ (چناب نگر) میں خطبہ دیا جسے بعد میں قادیانی جماعت نے پمفلٹ کی شکل میں شائع کردیا۔ جس کا حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ نے جواب تحریر فرمایا تھا۔ جسے ہم احتساب قادیانیت کی جلد۱۶ میں شائع کر چکے ہیں)
۱۵… مرزائیوں کا سیاسی کردار: مجاہد ملت حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ نے ۱۶؍مئی ۱۹۷۰ء کمپنی باغ سرگودھا میں خطاب فرمایا اور اسی روز ایک پریس کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا۔ اس طرح مکی مسجد گوجرانوالہ شہر میں ۲۱؍اکتوبر ۱۹۶۶ء کو حضرت مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا