ہوسکا۔ اب اگر کوئی دوست بعد میں احتساب کو جدید خطوط پر مرتب کرنا چاہیں تو اس کا خاص خیال رکھیں کہ جن حضرات کے کسی وجہ سے رسائل کئی جلدوں میں آگئے ہیں ان کو یکجا کر دیا جائے۔
۸… خطبہ عیدالاضحی ۱۳۵۳ھ … ترکان احرار کا پیغام: ترکی میں خلافت عثمانیہ کے کسی رہنما نے اپنے خطبہ میں دیگر احکام کے علاوہ قادیانیوں کی بھی خبر لی۔ مجلس احرار اسلام امرتسر نے اس خطبہ کو پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا جسے اس جلد میں محفوظ کرنے کی سعادت سے بہرہ ور ہورہے ہیں۔
۹… لانبی بعدی: حضرت مولانا قاری عبدالحئی عابد ملک عزیز کے نامور خطیب تھے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ان کا وصال ہوا ہے۔ ہمارے ملک کے نامور خطیب حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیؒ کے مولانا عبدالحئی عابد برادر اصغر تھے۔ مولانا عابد نے یہ رسالہ مرتب کیا۔ قرآن وسنت سے ختم نبوت وحیات مسیح پر لکھا گیا ہے۔
۱۰… قادیانیوں کے کلمہ کی حقیقت: ۱۹۸۴ء میں جب قادیانیوں کے خلاف جنرل محمد ضیاء الحقؒ نے امتناع قادیانیت آرڈیننس منظور کیا تو قادیانیوں نے کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر اس قانون کی خلاف ورزی کرنا چاہی۔ تب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کے احتساب کا دائرہ تنگ کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں قادیانی تحریک اس طرح دم توڑ گئی جس طرح مرزاقادیانی کے اندر سے حیاء نے ڈیرہ اٹھا لیا تھا۔ اس زمانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشرواشاعت کے سربراہ شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ تھے۔ اس دور میں آپ کا قلم نازی گھوڑے سے بھی زیادہ میدان سر کر رہا تھا۔ آپ نے مختصر عرصہ میں قادیانی فرقہ سے متعلق اتنا تحریر کیا کہ جب اس کو جمع کیاگیا تو ’’تحفہ قادیانیت‘‘ کی چھ ضخیم جلدیں شائع ہوگئیں۔ بلاشبہ اس وقت تک کی فقیر کی نظر میں سب سے زیادہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے ردقادیانیت پر تحریر فرمایا۔ باقی حضرات میں سے کسی نے دو جلدیں، کسی نے تین۔ آپ کی چھ جلدیں جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت علیحدہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کر چکی ہے۔ یہ رسالہ بھی ہمارے حضرتؒ کا مرتب کردہ ہے۔
۱۱… تحریک ختم نبوت: مجاہد ملت حضرت مولانا عبدالستار خان نیازی نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں جو تاریخ کا حصہ ہیں۔ آپ نے تحریک کے چار سال بعد یہ رسالہ مرتب کیا۔ اس کا سبب یہ ہوا کہ چنیوٹ میں انجمن طلباء اسلام چنیوٹ نے ختم نبوت کانفرنس رکھی جس میں مولانا عبدالستار خان نیازی یہ مقالہ لکھ کر تشریف لائے جسے آپ نے کانفرنس میں پیش کیا اور پھر شائع بھی کیا نصف صدی سے زائد عرصہ بعد اس کی اشاعت پر اﷲتعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں۔