دشمن ہے وہ خدا کا جو کرتا ہے اب جہاد
فتویٰ ہے شیخ کا یہ زمانہ قلم کا ہے
دنیا میں اب رہی نہیں تلوار کارگر
لیکن جناب شیخ کو معلوم کیا نہیں؟
مسجد میں اب یہ وعظ ہے بیسود و بے اثر
تیغ وتفنگ دست مسلماں میں ہے کہاں
ہو بھی تو دل ہیں موت کی لذت سے بے خبر
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر
تعلیم اس کو چاہئے ترک جہاد سے
دنیا کو جس کے پنجہ خونیں سے ہو خطر
باطل کے فال وفر کی حفاظت کے واسطے
یورپ زرہ میں ڈوب گیا دوش تا کمر
ہم پوچھتے ہیں شیخ کلیسا نواز سے
مشرق میں جنگ شر ہے تو مغرب میں بھی ہے شر؟
حق سے اگر غرض ہے تو زیبا ہے کیا یہ بات
اسلام کا محاسبہ، یورپ سے درگذر
مہدیٔ برحق
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
خاور کے ثوابت ہوں کہ افرنگ کے سیار
پیران کلیسا ہوں کہ شیخان حرم ہوں
نے جدت گفتار ہے نے جدت کردار
ہیں اہل سیاست کے وہی کہنہ خم وپیچ
شاعر اسی افلاس تخیل میں گرفتار
دنیا کو ہے اس مہدیٔ برحق کی ضرورت
ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
بابائے صحافت حضرت مولانا ظفر علی خان کے احساسات
لیکن اس دیں کی ہے شرط کہ خوش ہو انگریز
جس کا اقبال جہاں میں علم افراشتہ ہے
سوکھ جائے نہ کہیں میری نبوت کا درخت
یہ وہ پودا ہے کہ سرکار کا خود کاشتہ ہے
مادیان قادیان
میں نے دی اس کو لگام اور ہو گیا اس پر سوار
ورنہ کس کو مانتی تھی مادیان قادیاں
جو مجاور ہیں بہشتی مقبرہ کے آج کل
بیچتے پھرتے ہیں گھر گھر استخوان قادیاں
صرف غائب نحو عنقاء اور سلاست ناپدید
ان سب اجزا سے مرکب ہے زبان قادیاں