نقاش پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کے ارشادات
گفت دین را رونق از محکومی است
زندگانی از خودی محرومی است
دولت اغیار را رحمت شمرد
رقص ہاگرد کلیسا کرد ومرد
(مثنوی پس چہ باید کرد ص۲۹)
قادیانی نبوت؟ برگ حشیش
میں نہ عارف نہ مجدد نہ محدث نہ فقیہہ
مجھ کو معلوم نہیں کیا ہے نبوت کا مقام
ہاںمگر عالم اسلام پہ رکھتا ہوں نظر
فاش ہے مجھ پہ ضمیر فلک نیلی فام
عصر حاضر کی شب تار میں دیکھی میں نے
یہ حقیقت کہ ہے روشن صفت ماہ تمام
وہ نبوت ہے مسلمان کے لئے برگ حشیش
جس نبوت میں نہیں قوت و شوکت کا پیام
(ضرب کلیم ص۵۳)
انگریز کی پرستار امامت
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے
حق تجھے میری طرح صاحب اسرار کرے
ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحق
جو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرے
موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست
زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے
دے کے احساس زیاں تیرا لہو گرمادے
فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرے
فتنۂ ملت بیضا ہے امامت اس کی
جو مسلماں کو سلاطین کا پرستار کرے
بہاء اﷲ ایرانی اور غلام احمد قادیانی
آں زایراں بود وایں ہندی نژاد
آں زحج بیگانہ وایں از جہاد
سینہ ہا از گرمی قرآں تہی
از چنیں مرداں چہ امید بہی