اک برہنہ سے نہ یہ ہو گا کہ تاباندھے آزار
یہ کہ ’’تا‘‘ ہے شاہکار شاعران قادیاں
لوگ حیراں تھے کہ جب پھیکا ہے پکوان اس قدر
ہو گئی پھر اتنی اونچی کیوں دکان قادیاں
جو فروشی کے لئے گندم نمائی شرط ہے
تھا بڑا ہی کائیاں بازار گان قادیاں
کیا سلوک ان سے روا رکھتے ہیں منکر اور نکیر
قبر میں خود دیکھ لیں گے منکران قادیاں
منکر ختم نبوت
منکر ختم نبوت ہو رہا ہے قادیاں
آ گیا وقت جہاد ایمان کا خنجر نکال
کہہ دو مرزا سے کہ خاک کعبہ اڑ سکتی نہیں
اپنے دل سے تمنائے جنوں پرور نکال
کائنات آنگن ہے اس کی اور ہے چھت عرش بریں
تو بھی کوئی گھر نکال اس سے مگر بہتر نکال
اس کو ڈھا کر دوسرا گھر شوق سے بنوا مگر
ابن آذر سے کوئی معمار بھی بڑھ کر نکال
سورج اس کا آئینہ ہے چاند اس کی شمع ہے
تو بھی اک گھر جس سے یوں روشن ہوں بام ودور نکال
پناہ بخدا
نبی کے بعد نبوت کا ادّعا ہو جسے
ہر ایسے بطل خرافات سے خدا کی پناہ
ٹیچی ٹیچی ہے ادھر اور ادھر غلام احمد
ہزار بار ان آفات سے خدا کی پناہ
خدا بچائے ہمیں ان کے ساتھ ملنے سے
منافقوں کی موالات سے خدا کی پناہ
بنے جو باپ خدا کا اور اس کی بیوی بھی
ہر ایسے مسخرے کی ذات سے خدا کی پناہ
قادیانی اور لاہوری
قادیاں ہو کہ ہو لاہور بچو دونوں سے
اس طرف ہوتی ہے ایں اس طرف آں ہوتا ہے
شعلہ اٹھتا ہے اگر اس سے الوہیّت کا
تو بلند اس سے نبوت کا دھواں ہوتا ہے
ہیں خدا ان کے نصاریٰ یہ ہیں بندے ان کے
وہیں ہوتے ہیں یہ انگریز جہاں ہوتا ہے
اسلام اور فقط اسلام
قادیانی جو اڑے پھرتے ہیں ان کا کیا ہے
بال گورے کا، رواں گورے کا، پر گورے کا
فقط اسلام ہی دنیا میں ہے طاقت ایسی
ناطقہ بند جو کر سکتی ہے ہر گورے کا