یعنی آخری، آخر القوم وفاعل الختم ‘‘
خاتم معنے مہر۔ سلسلہ نبوت پر مہر، آپﷺ کی بعثت سے مہر لگ گئی۔ یہ سلسلہ سربمہر کردیاگیا جیسے وثیقہ اور لفافہ لکھ کر سب سے آخر میں سربمہرکیا جاتا ہے۔ سلسلۂ نبوت کو بھی سربمہر کردیا گیا۔ حضور پاکﷺ کا خاتم النّبیین ہونا ایک ایسی صفت ہے جو تمام کمالات نبوت ورسالت میں آپﷺ کے اعلیٰ فضیلت اور خصوصیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیونکہ ہر چیز میں تدریجی ترقی ہوتی ہے اور انتہا پر پہنچ کر اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور جو آخری نتیجہ ہوتا ہے۔ وہی اصل مقصود ہوتا ہے۔ اس کی وضاحت قرآن حکیم نے یوں فرمائی۔ ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی‘‘ یعنی آج تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کردی۔
جس نعمت کی ابتداء پہلے نبی حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی۔ اس کی تکمیل سب سے آخری نبی حضرت محمد مصطفیﷺ پر کی گئی۔ اب فہرست نبوت تمت تمام شد۔ وخاتم النّبیین میں ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ اوپر آنحضرتﷺ بصفت رسول (ولکن رسول اﷲ) آیا ہے۔ اس لئے بظاہر مناسب یہ تھا۔ کہ آگے وخاتم المرسلین کا لفظ اختیار کیا جاتا مگر قرآن حکیم نے اس کے بجائے خاتم النّبیین کا لفظ اختیار فرمایا۔ وجہ یہ ہے کہ جمہور علماء کے نزدیک نبی اور رسول میں فرق ہے۔ وہ یہ کہ نبی تو ہر اس شخص کو کہا جاسکتا ہے کہ جسے اﷲ تعالیٰ اصلاح خلق کے لئے منتخب فرمائیں اور اپنی وحی سے مشرف فرمائیں۔ خواہ اس کے لئے مستقل کتاب وشریعت تجویز کریں۔ یا پہلے ہی کسی نبی کی کتاب وشریعت کے تابع لوگوں کی ہدایت کرنے پر مامور فرمائیں۔ جیسے حضرت ہارون علیہ السلام کہ حضرت موسیٰ علیہما السلام کی کتاب وشریعت کے تابع ہدایت کرنے پر مامور تھے اور رسول خاص اس نبی کے لئے بولا جاتا ہے جس کو مستقل کتاب وشریعت دی گئی ہو۔ اسی طرح لفظ نبی کے مفہوم میں بہ نسبت لفظ رسول کے عموم زیادہ ہے تو آیت کا مفہوم یہ ہوا۔ کہ آپ سب انبیاء کے ختم کرنے والے اور سب سے آخری ہیں۔ خواہ صاحب شریعت نبی ہو یا صرف پہلے نبی کے تابع۔ اس سے معلوم ہواکہ نبوت کی جتنی قسمیں اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ہوسکتی ہیں۔ وہ سب آپﷺ پر ختم ہوگئیں۔ آپﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنے والی نہیں۔
امام ابن کثیرؒ نے اپنی تفسیر ہی میں فرمایا ’’فہذہ الایۃ فی انہ لا نبی بعدہ واذا کان لا نبی بعدہ فلا رسول بعدہ بالطریق الاولیٰ‘‘ ہاں اگر کسی کج فہم کو یہ شبہ پیدا ہو کہ ایک پیغمبر قیامت تک کیسے کافی اور مختلف انسانی نسلوں کے لئے رہنما اور قابل اتباع وتقلید نمونہ بن سکتا ہے اور اس کی شریعت وتعلیمات کیونکر تمام انسانی ضرورت، نئے نئے تقاضوں اور عہد بعہد