یا کسی گول۱؎ مول الہام میں یہ وعدہ جبرائیل علیہ السلام لایا یا ٹیچی؟
کاش مولوی صاحب اپنے جاہل جماعتیوں سے چندہ بٹورنے کی غرض سے انہیں اپنے ساتھ وابستہ رکھنے کے لئے اﷲتعالیٰ اور اس کے کلام کو یوں دام تزویر وتلبیس نہ بناتے۔
حافظا مے خور درندی کن وخوش باش ولے
دام تزویر مکن چو دگراں قرآن را
دوسرا جھوٹ
کیا مولوی صاحب اپنے سوا آپ کے ملنے والوں میں سے کسی ایک کام بھی اس قسم کا بیان منظر عام پر لاسکتے ہیں کہ کئی ہزار مرتبہ قرآن آپ نے پڑھا۔ ایک دائم والمرض انسان جو بیچارہ مجموعہ امراض۲؎ اور مجسمہ علل ہو جسے نیچے کے دھڑکی بیماریاں جدا لاحق ہوں اور اوپر کے دھڑ کی جدا۳؎۔ عمر بھر جس کے جسم کا حصہ اسفل صحیح رہا ہو نہ حصہ۴؎ اعلیٰ۔ جو بیچارہ ایک ایک دن اور ایک ایک رات میں سو سو دفعہ پیشاب کرے۵؎۔ جس بے چارے کو ہسٹیریا کے باقاعدہ دورے پڑیں۶؎۔ جو بے چارہ مراق میں بھی مبتلا۷؎ ہو اور جس کا دل درست ہو نہ۸؎ دماغ۔ اس بے چارے کو روزانہ سوادس پارے۹؎ قرآن پڑھنے کی فرصت ہی کب مل سکتی ہے۔
۱؎ مرزاقادیانی کا قول ہے: ’’الہامی عبارت ذوی الوجوہ اور کچھ گول مول ہے۔‘‘
(تبلیغ رسالت ج۱ ص۸۶، مجموعہ اشتہارات ج۱ ص۱۲۸ حاشیہ)
۲؎ حکیم نورالدین کو لکھتے ہیں۔ ’’مجھے یہ دوا بہت ہی فائدہ مند معلوم ہوئی ہے کہ چند امراض کاہلی وسستی ورطوبات معدہ اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ایک مرض مجھے نہایت خوفناک تھی کہ صحبت کے وقت لیٹنے کی حالت میں نعوذ بکلی جاتا رہتا تھا۔ شاید قلت حرارت غریزی اس کا موجب تھی۔ وہ عارضہ بالکل جاتا رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوا حرارت غریزی کو بھی مفید ہے اور منی کو بھی غلیظ کرتی ہے۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر۲ ص۱۴، مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۲۰، مکتوب نمبر۱۰ جدید)
۲… ’’ایک میرے دوست سامانہ علاقہ پٹیالہ میں ہیں جن کا نام مرزااحمد یوسف بیگ ہے۔ انہوں نے کئی مرتبہ ایک معجون بنا کر بھیجی ہے جس میں کچھ مدبر داخل ہوتا ہے۔ وہ معجون میرے تجربے میں آیا ہے کہ اعصاب کے لئے نہایت مفید ہے اور امراض رعشہ، فالج اور تقویت دماغ اور قوت باہ کے لئے اور نیز تقویت معدہ کے لئے فائدہ مند ہے۔ مدت سے میرے استعمال میں ہے۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر۲ ص۵۵، مکتوبات احمدیہ جدید ج۲ ص۵۶، مکتوب نمبر۳۵)
۳… نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں۔ ’’کس قدر تریاق جدید کی گولیاں ہمدست مرزا خدابخش صاحب آپ کی خدمت میں ارسال ہیں۔ دوا تریاق الٰہی سے فوائد میں بہت بڑھ کر ہے۔ اس میں بڑی بڑی قابل قدر دوائیں پڑی ہیں جیسے مشک، عنبر، مروارید، سونے کا کشتہ، فولاد، یاقوت احمر، کونین، فاسفورس، کہربا، مرجان، سندل، کیوڑہ، زعفران یہ تمام دوائیں قریب سو کے ہیں اور بہت سا فاسفورس اس میں داخل کیاگیا ہے۔ یہ دوا علاج طاعون کے علاوہ مقوی دماغ، مقوی جگر، مقوی معدہ، مقوی باہ اور مراق کو فائدہ کرنے والی اور مصفّٰی خون ہے۔ مجھ کو اس کے تیار کرنے میں اوّل تامل تھا کہ بہت سے روپیہ پر اس کا تیار کرنا موقوف تھا۔ لیکن چونکہ حفظ صحت کے لئے یہ دوا مفید ہے۔ اس لئے اس قدر خرچہ گوارا کیا اور قوت باہ میں اس کو عجیب اثر ہے۔‘‘ (مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر۴ ص۱۰۵، مکتوبات احمدیہ ج۲ ص۲۵۰ جدید) (بقیہ حاشیہ جات اگلے صفحہ پر)