مقدمات کے نتائج سے کی جاوے گی۔ مقدمہ جو مرزاقادیانی اور ان کے دوستوں کے برخلاف تھا۔ وہ جہاں تک ہم نے سنا ہے اس امر کا تھا کہ مولوی محمد حسن صاحب جو موضع بھیں ضلع جہلم کے رہنے والے تھے ان کی نسبت کچھ ناملائم اور ناشائستہ الفاظ انہوں نے یا ان کے کسی دوست نے لکھے تھے ان الفاظ کی بناء پر مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے ایک رشتہ دار مولوی کرم الدین صاحب نے مرزاقادیانی وغیرہ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کر دی تھی۔ عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا مولوی کرم الدین مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کا اتنا قریبی رشتہ دار ہے کہ متوفی مولوی صاحب کو برا کہا جانے کی وجہ سے نالش کرنے کا مستحق ہے۔ عدالت نے یہ قرار دیا ہے کہ مولوی کرم الدین اتنا قریبی رشتہ دار مرحوم کا نہیں ہے کہ وہ دعویٰ کر سکے۔
اس مقدمہ کے متعلق وضاحت سے جو الہام مرزاقادیانی کو ہوئے ہیں وہ دوران مقدمہ میں ہوئے ہیں۔ جب کہ ان کو ان کے وکلائ، قانونی مشورہ دے چکے تھے اور اس واسطے ہم جانتے ہیں کہ ان الہامات کے معنے کیاہیں۔ لیکن ہم کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس تقریب پر مرزاقادیانی کے مراتب اور مناقب میں کوئی ترقی ہونے والی ہے اور غالباً خود مرزاقادیانی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ اس عظیم الشان فتح کی خوشی میں خدا کے برگزیدہ رسول اور نبی اﷲ ہو جائیں گے اور خاتم الانبیاء ختم الرسل کی تعریفات جو آنحضرتﷺ (فداک روحی یا رسول اﷲ) کے مبارک اور پیارے نام کے ساتھ گزشتہ تیرہ سو برس میں استعمال ہوتی رہی ہیں۔ ان کے مٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ لیکن اگر مرزاقادیانی اس ترقی کے مستحق ثابت ہوئے ہیں تو ہماری رائے میں ان وکیلوں کی جنہوں نے مرزاقادیانی کو اس مقدمہ میں چھڑایا ہے۔ نہایت حق تلفی کی گئی ہے۔ مقدمہ سے چھوٹنے والا تو امام سے برگزیدہ رسول اور نبی ہو جائے اور مقدمہ سے چھوڑانے والے بیچارے کوئی خاص اور چھوٹنے والے سے بہتر رتبہ کے مستحق نہ قرار دئیے جائیں۔ حالانکہ حالات نے مرزاقادیانی کے وکلاء کو انعام میں ایک خاص ترقی دینے کا موزوں موقعہ پیدا کر دیا تھا۔ یعنی مرزاقادیانی کے تین وکلاء تھے۔ ان تینوں میں سے جن سے وہ راضی ہوتے ایک کو خدا دوسرے کو خدا کا بیٹا، تیسرے کو روح القدس بنا دیا جاتا اور پھر تینوں مل کر خدا بنادئیے جاتے اور مرزاقادیانی کے دین کے لحاظ سے یہ کوئی نئی یا اچھوتی بات نہ ہوتی۔ مرزاقادیانی نے اپنے مضمون کشی نوح میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ مریم بنادئیے گئے تھے اور پھر ان کو حمل ہوگیا تھا اور جب ان کو درد زہ ہوا تو وہ کھجور کے درخت کے نیچے چلے گئے اور وہاں جاکر انہوں نے بچہ جنا اور وہ بچہ جننے کے بعد ان کو آخر کار کسی وقت معلوم ہوا کہ وہ دونوں ماں اور بچہ وہ خود ہی ہیں۔ تو جس دین میں یہ عجائبات ظہور