سوالات جرح میں تراب صاحب سے جو ذات پوچھی گئی تو آپ نے اپنے حلفی بیان میں اپنی ذات سے لاعلمی ظاہر کی اور لکھایا کہ نہیں معلوم میری قوم کیا ہے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ شیخ کیوں کہلاتے ہیں تو کہا کہ مسلمان کی حیثیت سے میں نے اپنے آپ کو شیخ لکھایا ہے۔ نہ بلحاظ قومیت کے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ آپ کے والد صاحب کا نام چٹو ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ میں نے نہیں سنا کہ میرے باپ کا نام چٹو تھا۔ گواہان صفائی میں آپ کے والد ماجد کو طلب کرایا گیا جن کے نام کا سمن اس پتہ پر تعمیل ہوکر آیا۔ بنام چٹو ولد تانا عرف سلطان بخش ذات مراسی ساکن جاڈلہ ضلع جالندھر۔ جب میاں چٹو عدالت میں وٹنس بکس پر شہادت کے لئے کھڑے ہوئے تو باپ بیٹے پر نور (سیاہی) گھٹا باندھے دکھائی دینے لگا تو حاضرین مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہوگئے۔ جب ان کی شہادت شروع ہوئی تو انہوں نے اپنی عرف چٹو تسلیم کی اور ذات شیخ لکھائی۔ حالانکہ یعقوب علی صاحب قوم شیخ ہونے سے انکارکر چکے تھے۔ جرح میں آپ سے سوال کیاگیا کہ اگر شیخ ہے تو مراسی آپ کو کیوں کہا جاتا ہے۔ چنانچہ سمن بھی اسی پتہ پر تعمیل ہوا تو اس کے جواب میں وجہ یہ ظاہر فرمائی کہ میرے ایک بزرگ نے میراسیوں کے گھر شادی کر لی تھی۔ علاوہ ازیں بابو محمد افضل ایڈیٹر البدر گواہ استغاثہ نے اپنی شہادت میں صاف لکھایا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یعقوب علی ذات کے مراسی ہیں اور بھی بہت بڑی جرح ہوتی رہی۔ بہت طول طویل بیان ہوا۔ اس وقت تراب صاحب ’’یٰلیتنی کنت ترابا‘‘ کا ورد کر رہے تھے۔ خواجہ صاحب بھی یہ حالات دیکھ سن کر دنگ رہ گئے۔ اس مقدمہ میں بھی مرزائیوں کا بڑا روپیہ صرف ہوا۔ بڑے بڑے ایڈیٹران اخبار اور تحصیلدار ڈپٹی گواہان گزرے۔ آخر نتیجہ کیا ہوا۔ کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ تراب صاحب کی عزت کی قیمت چالیس اور پچاس روپے پڑی۔ دوران مقدمہ کی صعوبتیں اور ذلتیں مفت کی۔
مرزاقادیانی پر فوجداری مقدمہ
اب ہم اس معرکہ کے مقدمہ کا ذکر کرتے ہیں جو زیردفعات ۵۰۰،۵۰۱، ۵۰۲ تعزیرات ہند میری طرف سے مرزاقادیانی اور ان کے مخلص مرید حکیم فضل دین بھیروی ثم القادیانی کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی کا مواہب الرحمن کی عبارت مندرجہ ص۲۹،۳۰ کی بنا پر دائر کیاگیا تھا اور جس میں مرزاقادیانی دوسال تک سرگردان وپریشان رہے۔ آخر عدالت مہتہ آتمارام صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل گورداسپور سے مرید ومرشد کو سات سو روپیہ جرمانہ ورنہ چھ وپانچ ماہ قید کی سزا ہوئی اور سینکڑوں روپے اپیل پر خرچ ہوکر بمشکل جرمانہ معاف ہوا۔