مرزاغلام احمد کے دعاوی کی غرض وغایت
انگریزوں نے جنگ آزادی ۱۸۵۷ء جیت تو لی مگر محسوس کیا کہ مسلمانان ہندوستان ان کے پیر جمنے نہیں دیتے اور ہمہ وقت جہاد کے لئے تیار رہتے ہیں۔ لہٰذا کسی جاسوس اور ایجنٹ کو ہاتھ میں لے کر جہاد کی روح کو ان کے ذہنوں سے ختم کر دینا چاہئے۔
۱۸۶۹ء میں ایک کمیشن ہندوستان آیا۔ اس نے ایک سال کی انتھک کوشش کے بعد ۱۸۷۰ء میں لنڈن وائٹ ہال میں کانفرنس کر کے رپورٹ پیش کی اور دی ایرائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا (The Araival of British Empire In India) کے نام سے شائع کی اور بتایا کہ:
۱… ’’مسلمانوں کی اکثریت پیری مریدی کے رجحانات کی حامل ہے۔ اگر کوئی مذہبی غدار میسر آجائے اور نبوت کا دعویٰ کرنے کو تیار ہو جاوے تو ان مسلمانوں کو مطیع اور فرمانبردار بنایا جاسکتا ہے۔‘‘
۲… ’’جہاد کا جذبہ ختم کر کے ان کا مذہبی جوش اور ولولہ مٹایا جانا ضروری ہے۔ چنانچہ وزیراعظم انگلستان گلیڈ سٹون نے پارلیمنٹ میں تقریر کی اور مندرجہ بالا دونوں باتوں پر عمل کرنے کا عہد کیا۔ خطۂ پنجاب کے پادریوں کی نظر مرزاغلام احمد پر پڑی جو اس وقت سیالکوٹ میں ایک معمولی مشاہرہ پر ملازم تھے۔ معاملات طے ہوگئے۔ یوں تو مرزاقادیانی کا خاندان پہلے ہی انگریز کا پٹھو ٹوڈی اور جھولی چک تھا۔ مگر اس تازہ معاہدہ کے تحت وہ ہمہ تن انگریزی حکومت کی مضبوطی میں لگ گئے۔‘‘
ثبوت
۱… ’’مجھے حق ہے کہ میں دعویٰ کروں کہ میں خدمات میں منفرد ہوں اور مجھے حق ہے کہ میں یہ کہوں کہ میں اس حکومت کے لئے تعویذ اور ایسا قلعہ ہوں جو اس کو آفات ومصائب سے محفوظ رکھنے والا ہے۔‘‘ (نورالحق حصہ اوّل ص۳۲،۳۳، خزائن ج۸ ص۴۵)
۲… ’’یہ التماس ہے کہ سرکار دولت مدار ایسے خاندان کی نسبت جس کو پچاس سال کے متواتر تجربہ سے ایک وفادار، جانثار ثابت کر چکی ہے اور جس کی نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز