بذریعہ وارنٹ بضمانت ایک ہزار روپیہ طلب ہوئے اور نیز آپ کے چند مرید بھی آپ کے ساتھ بذریعہ وارنٹ بلائے گئے۔ اس مقدمہ کی نسبت قانونی مشیروں نے یہ اعتراض سوچا کہ مقدمہ فیضی مرحوم کے پسران کی طرف سے ہونا چاہئے تھا۔ ان کی موجودگی میں مستغیث کو حق نالش کا نہیں پہنچتا۔ اس پر مرزاقادیانی کا حوصلہ بندھ گیا اور جہلم میں روانہ ہونے سے پہلے اپنی ایک کتاب مواہب الرحمن میں جو اس وقت زیرتصنیف تھی اس مقدمہ کی نسبت کچھ تذکرہ چھاپ کر ہمراہ لائے اور جہلم میں آکر کتاب تقسیم کر دی۔ اس کتاب میں مولوی صاحب کی نسبت سخت ہتک کے الفاظ درج کئے گئے جو آپ پر اس استغاثہ کی دائری کا باعث ہوئے۔ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء کو اس مقدمہ کی پیشی ہوئی اور خدا کے جری، متوکل علی اﷲ، امام الزمان بجائے اس کے کہ سینہ سپر ہوکر تنہا مقابلہ میں نکلتے ایک جتھا وکلاء کا اپنی نجات کا وسیلہ بنا لائے۔ جن میں سے ایک صاحب انگریز بیرسٹر بھی تھے جو اس مذہب عیسائی کے تھے جن کی نسبت دجال وغیرہ کے القاب آپ استعمال فرمایا کرتے ہیں۔
بالآخر وکلاء نے وہی اعتراض اٹھایا۔ جس کا پہلے ذکر ہوچکا ہے اور حاکم نے وہ اعتراض سن کر استغاثہ داخل دفتر کیا۔ بس پھر کیا تھا مرزائیوں نے فتح فتح کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا اور لمبے چوڑے اشتہاروں میں مرزاقادیانی کو خدا کا برگزیدہ رسول اور نبی اﷲ کے خطاب دے کر مبارک بادیاں دی گئیں۔ اس موقعہ پر اخبار چودھویں صدی میں ایک مختصر پر مغز مضمون جو مرزائیوں کے اس غیرمعمولی جوش پر ایڈیٹر اخبار موصوف نے لکھا تھا۔ درج کر دینا موجب دلچسپی ناظرین ہوگا۔
نقل مضمون اخبار چودھویں صدی راولپنڈی مطبوعہ یکم؍فروری ۱۹۰۳ء صفحہ کالم اوّل
’’مرزاغلام احمد قادیانی کی ایک مقدمہ میں فتح کی خوشی میں ان کے مریدان باصفا نے مرزاقادیانی کے مراتب کو اور بھی بلند فرمادیا ہے۔ چنانچہ اخبار الحکم کے ضمیمہ میں جو اس عظیم الشان فتح پران کو مبارک باد دی گئی ہے اس میں سے ذیل کے الفاظ ہم نقل کرتے ہیں: ’’اے خدا کے برگزیدہ رسول الحق خدا تیرے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ اے نبی اﷲ تجھے وہ بشارت ملی ہے جس کا وعدہ بشارۃ تلقاہا النبیون میں یوم العید کو دیاگیا۔ لاریب خدا تعالیٰ کے وہ سارے وعدہ جو اس نے اس مقدمہ کے متعلق کئے تھے۔ پورے ہوئے ان تمام پیشین گوئیوں کے پورا ہونے پر تجھ کو اور تیری قوم کو مبارک باد دیتے ہیں۔‘‘
ہم نے تو ایک سابقہ پرچہ میں پیش گوئی کر دی تھی اور اس کے واسطے کسی الہام کی ضرورت نہیں تھی کہ مرزاقادیانی کو آج کل جو الہامات ہو رہے ہیں ان کی تعبیر عنقریب ان