صوم، صلوٰۃ، رحمانیت، رحمیت، توفی اور ایسے ہی اﷲ کا لفظ اور کئی الفاظ سو اصطلاحی امر میں لغت کی طرف رجوع کرنا حماقت ہے۔ قرآن شریف کی قرآن شریف سے ہی تفسیر کرو اور دیکھو کہ وہ ایک ہی معنے کا التزام رکھتا ہے یا متفرق معنی رکھتا ہے اور اقوال سلف وخلف مستقل حجت نہیں اور ان کے اختلاف کی حالت میں وہ گروہ حق پر ہوگا جن کی رائے قرآن کریم کی مطابق ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام خورد ص۵۳۸، خزائن ج۳ ص۳۸۹)
اصطلاحی امر میں لغت کی رجوع کرنا مرزاقادیانی حماقت بتلاتے ہیں۔ بعض لاہوری ناواقفی سے کہہ دیا کرتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس جو قاصد آیا تھا اس کو بھی قرآن رسول کہتا ہے۔ لغوی معنوں سے خدا کے بندو قرآن میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ پہلے نبیوں پر بھی کتابیں اترتی رہیں۔ اگر آج کوئی کہنے لگے قرآن میں لکھا ہے۔ لہٰذا کتابیںاب بھی اتریں گی چونکہ نبوت ختم ہوچکی ہے۔ مرزاقادیانی کہتے ہیںکہ اور خلیفوں کو اس وجہ سے یہ نام نہیں دیاگیا کہ امر ختم نبوت مشتبہ ہوتا ہے۔ اپنے حکم کی بات تو مانو۔
مرزاقادیانی کو صریح نبی کا خطاب ملا
’’اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کومسیح ابن مریم سے کیا نسبت۔ وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ مگر بعد میں جو خداتعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی۔ اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔ ‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۰، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲،۱۵۳)
اس عبارت سے ظاہر ہے کہ مرزاقادیانی پہلے اپنے آپ کو نبی نہ جانتے تھے۔ تب ہی تو یہ سمجھتے تھے کہ مجھ کو مسیح سے کیا نسبت۔ وہ نبی ہے۔ غیرنبی کو واقعی نبی سے کیا نسبت۔ مگر کیا کیا جائے جب وحی کی بارش زوروشور کے ساتھ ہونے لگی اور تمام کپڑے بھیگ گئے۔ تب آپ کو نبی کا خطاب لینا پڑا اور مسیح ابن مریم پر تجلی فضیلت کا اقرار کرنا پڑا۔ لاہوری اس خطاب کا بڑا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ عزت کا خطاب ہے۔ ورنہ نبی کو نبی کا خطاب کیسا اور نبی کو نبی کا نام دینا کیسا۔ مرزاقادیانی کو مجازی ظلی طور پر نبی کا نام دے دیا اور مجازی نبی نبی نہیں ہوتا۔ اب ہم لاہوریوں کے ان اقوال کو مرزاقادیانی کی تحریرات سے جانچتے ہیں۔ سنئے! مرزاقادیانی کیا فرماتے ہیں: ’’اس امت میں سابقہ مجددین اور مامورین کا ہی نہ پکارا جانا آنحضرت کی شان عظمت کو ثابت کرتا ہے۔ جس کا فخر آنحضرتﷺ ہی کو ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کو ہرگز نہیں ہے۔