پنجاب اور ہندوستان کے فتویٰ بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو… سو یہی انگریز ہیں جن کو لوگ کافر کہتے ہیں۔ جو تمہیں ان خونخوار دشمنوں سے بچاتے ہیں اور ان کی تلوار کے خوف سے تم قتل کئے جانے سے بچے ہوئے ہو۔ ذرا کسی اورسلطنت کے زیر سایہ رہ کر دیکھ لو کہ تم سے کیا سلوک کیا جاتا ہے۔
سو انگریزی سلطنت تمہارے لئے ایک برکت ہے… اور تمہارے مخالف جو مسلمان ہیں۔ ہزارہا درجہ ان سے انگریز بہتر ہیں۔ کیونکہ وہ تمہیں واجب القتل نہیں سمجھتے… ظاہر ہے کہ انگریز کس انصاف اور عدل کے ساتھ ہم سے پیش آتے ہیں اور یاد رکھو کہ اسلام میں جو جہاد کا مسئلہ ہے۔ میری نگاہ میں اس سے بدتر اسلام کو بدنام کرنے والا اور کوئی مسئلہ نہیں۔ جس دین کی تعلیم عمدہ ہے… ایسے دین کو جہاد کی کیا ضرورت ہے؟‘‘
(بیان مرزاقادیانی ۷؍مئی ۱۹۰۷ء تبلیغ رسالت ج۱ ص۱۲۲، مجموعہ اشتہارات ج۳ص۵۸۲ تا۵۸۴)
مسلمان مدت سے
۱۱… ’’اگر گورنمنٹ برطانیہ کی اس ملک ہند میں سلطنت نہ ہوتی۔ تو مسلمان مدت سے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر کے معدوم کر دیتے۔‘‘(ایام الصلح ص۲۶، خزائن ج۱۴ص۲۵۵، حمامۃ البشریٰ ص۴۱، خزائن ج۷ص۲۳۱، نور الحق حصہ اول ص۴،خزائن ج۸ص۶)
نوٹ… مرزا قادیانی کا مندرجہ بالا مصدقہ بیان کسی مزید تشریح کا محتاج نہیں ہے۔ مرزا قادیانی نے اس بیان میںجہاں اپنی خانہ ساز مرتد امت کو اطاعت برطانیہ اور تنسیخ جہاد کی بشارت و تلقین کی ہے۔ وہاں امت مرزائیہ اور قادیانی تحریک سے متعلق تمام ممالک اسلامیہ اور عالم اسلام کے ارتداد سوز نظریہ کو بھی پیش کیا ہے۔
چنانچہ قادیانی کذاب نے بالکل غیر مبہم اور واشگاف الفاظ میں اس حقیقت باطن شکن کو تسلیم کیا ہے کہ بلااختلاف بالاتفاق اور بالاجماع جملہ مسلمانان عالم مرزائیوں کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہیں اور نیز یہ کہ قادیانی امت اپنے اس واضح ارتداد کی وجہ سے کسی بھی اسلامی حکومت کے زیر سایہ اور پناہ میں نہیں رہ سکتی۔ جیسا کہ بیان مذکور میں برسبیل اظہار حقیقت مرزا قادیانی نے اپنی امت کو خطاب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ میں اپنا گھر بناکر شریر لوگوں یعنی مسلمانوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے… ایسی سلطنت کا بھلا نام تو لو۔ جو تمہیں اپنی پناہ میں